چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کمپنیاں ہندوستان میں خدمات فراہم کرنے کے لیے موجود ہیں، نہ کہ صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کر کے اسے شیئر یا فروخت کرنے کے لیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات عدالت کو بھی واٹس ایپ کی پالیسی سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے، تو پھر دیہی علاقوں میں رہنے والے عام لوگ اس کے مضمرات کیسے جان سکیں گے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کی نجی زندگی اور باخبر رضامندی کسی بھی قیمت پر قربان نہیں کی جا سکتی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے ڈیٹا اور اشتہارات کے تعلق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک ذاتی مثال بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی ڈاکٹر واٹس ایپ پر دو یا تین دواؤں کے نام بھیجتا ہے تو چند ہی منٹوں میں انہی دواؤں سے متعلق اشتہارات نظر آنے لگتے ہیں، جو ڈیجیٹل نگرانی اور صارفین کے رویوں کی نگرانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
