Table of Contents
کیلیفورنیا میں میٹا اور یوٹیوب کے خلاف تاریخی مقدمے کی سماعت شروع، الزامات کہ پلیٹ فارمز بچوں کو عادت میں مبتلا کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے۔امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں سوشل میڈیا کمپنی Meta Platforms اور گوگل کی ذیلی کمپنی YouTube کے خلاف ایک اہم اور تاریخی نوعیت کے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہو گیا ہے۔
الزامات کیا ہیں؟
مدعیہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا جس سے بچوں اور کم عمر صارفین میں ان کے مستقل استعمال کی عادت پیدا ہوئی۔ درخواست گزار خاتون کا کہنا ہے کہ کم عمری میں ان ایپس کے مسلسل استعمال نے ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے۔
ان کے وکیل کے مطابق کمپنیوں کو علم تھا کہ ایپس میں شامل مخصوص فیچرز اور الگورتھمز نوجوانوں کو زیادہ وقت آن لائن گزارنے پر اکساتے ہیں، جس کے نتیجے میں ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
عدالت میں کیا دلائل دیے گئے؟
عدالت میں پیش کیے گئے دلائل کے مطابق نوٹیفکیشن سسٹم اور الگورتھمز کو اس طرح ترتیب دیا گیا کہ صارفین بار بار پلیٹ فارم پر واپس آئیں۔ مدعیہ کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی زیادہ منافع کے حصول کے لیے اپنائی گئی جبکہ ممکنہ نقصانات کو نظر انداز کیا گیا۔
کمپنیوں کا مؤقف
دوسری جانب میٹا اور گوگل نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات متعارف کرا چکے ہیں۔ کمپنیوں کے وکلا کے مطابق مدعیہ کے ذہنی مسائل کی وجوہات پیچیدہ اور متنوع ہو سکتی ہیں اور انہیں صرف سوشل میڈیا کے استعمال سے منسوب کرنا درست نہیں۔
ممکنہ قانونی اثرات
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جیوری کمپنیوں کو ذمہ دار قرار دیتی ہے تو یہ فیصلہ دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف زیرِ سماعت مقدمات پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اس سے سوشل میڈیا کے ڈیزائن، الگورتھمز اور ریگولیشنز کے حوالے سے نئے قانونی معیارات قائم ہونے کا امکان ہے۔
