ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ہم اکثر سنتے ہیں کہ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، اردگرد تتلیاں سی اُڑنے لگتی ہیں اور ہوا میں محبت کا رنگ بکھر جاتا ہے اور یہ سب محبت میں چھپی خوشی سے جڑاہوتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور دلچسپ ہے۔ یہ صرف جذبات یا رومانس نہیں، بلکہ دماغ کے اندر ایک نہ ختم ہونے والے کیمیائی عمل کی کہانی ہے جو انسان کو دوسروں کے ساتھ قریب لانے کی کوشش کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، محبت کی شروعات کسی تقدیر یا نصیب سے زیادہ دماغ کی مخصوص کیمیائی پیغام رسانی سے جڑی ہوتی ہے۔ ڈوپامائن، آکسیٹوسن اور چند دیگر ہارمونس مسلسل کام کرتے ہیں تاکہ انسان کو رشتوں اور قربت کی طرف مائل کیا جا سکے۔
ارتقائی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو محبت انسانوں کو ساتھی تلاش کرنے، تعلقات بنانے اور خاندان کی بنیاد رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ شاعری جیسی دلکش ہے لیکن اپنی تاثیر میں نہایت کارگر ہے۔
سوال یہ ہے کہ دماغ میں محبت کیسے جنم لیتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب کسی شخص کے لیے آپ کے دل میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے یا آپ کشش محسوس کرتے ہیں تو دماغ کا ریوارڈنگ سسٹم فعال ہو جاتا ہے اور اچانک وہ شخص باقی سب چیزوں سے زیادہ پرکشش لگنے لگتا ہے، یہاں تک کہ خوراک یا نیند بھی ثانوی ہو جاتی ہے۔
یہ لمحے بتاتے ہیں کہ ابتدائی محبت محض جذبات نہیں، بلکہ دماغ کے کیمیائی ردعمل کا نتیجہ ہیں۔
محبت کے اس کیمیائی کھیل کا پہلا اہم کردار ڈوپامائن ہے، جسے دماغ کا ”خوشی بھیجنے والا پیغام رساں“ کہا جاتا ہے۔ یہ وہی مادہ ہے جو ہمیں خوشی، تحریک اور بعض اوقات عادت یا نشے کے تجربات سے جوڑتا ہے۔
اسی لیے جب ہم کسی کے بارے میں سوچتے یا اسے دیکھتے ہیں، تو وہ احساس کبھی کبھار خوشی کے ہلکے جنون جیسا محسوس ہوتا ہے۔
اس کے بعد دوسرا کیمیکل یعنی نورایپی نیفرین دماغ کی محفل میں شامل ہوتا ہے، جو جوش و خروش اور توانائی پیدا کرتا ہے۔
یہی وہ کیمیائی مادہ ہے جو دل کی تیز دھڑکن، پسینے سے بھیگے ہاتھ اور ابتدائی محبت کے ارد گرد محسوس ہونے والی ہلکی گھبراہٹ کا سبب بنتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے رومینس کے لمحات کی الجھن یا نروَسنیس آپ کی غلطی نہیں، بلکہ یہ صرف دماغ کی ”کیماگری“ اور کارروائی ہے۔
اس کے بعد نمبر آتا ہے آکسی ٹوسِن کا، جسے عام زبان میں کڈل ہارمون یا ”گلے لگانے والا ہارمون“ بھی کہا جاتا ہے۔
یہ ہارمون جسمانی قربت، محبت اور اعتماد پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب ہم کسی کو گلے لگاتے ہیں، ہاتھ پکڑتے ہیں یا قریبی تعلقات میں وقت گزارتے ہیں، تو آکسیٹوسن خارج ہوتا ہے اور دل و دماغ میں خوشگواری اور نزدیکی کے جذبات کو فروغ دیتا ہے۔
یہ ہارمون اعتماد اورجذباتی رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ یہی وہ کیمیائی مادہ ہے جو والدین اور بچوں کے درمیان رشتے کو بھی مستحکم کرتا ہے، اور اسی وجہ سے سائنسدان اسے طویل مدتی تعلقات کے لیے نہایت اہم سمجھتے ہیں۔ شاید اسی لئے اسے محبت و قرابت پیدا کرنے والا ہارمون کہتے ہیں۔
ایک اور کیمیائی مادہ سیرٹونن تھوڑا مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محبت کے ابتدائی مراحل میں اس کی سطح کم ہو سکتی ہے جو بار بار اپنے محبوب کے بارے میں سوچنا، پیغامات چیک کرنا یا بغیر وجہ مسکرانا جیسے رویے پیدا کرتی ہے۔
سائنسدان اکثر محبت کو تین واضح مراحل میں تقسیم کرتے ہیں۔ سب سے پہلے خواہش آتی ہے، جو ٹیسٹوس ٹیرون اور ایسٹروجن جیسے ہارمونس کے زیر اثر پیدا ہوتی ہے۔
اس کے بعد کشش محسوس کرنا یا دلکشی کا مرحلہ آتا ہے، جسے ڈوپامائن اور نورایپی نیفرین کی طاقت سے تعلق کو پرکشش بنایا جاتا ہے۔
آخر میں قربت اور وابستگی پیدا ہوتی ہے، جس میں آکسی ٹوسن اور دیگر بانڈنگ ہارمونس تعلقات کو مستحکم اور دیرپا بناتے ہیں۔
دماغی اسکینز سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ رومانوی جذبات کے دوران درجنوں دماغی حصے فعال ہو جاتے ہیں، جس سے محبت محض جذباتی تجربہ نہیں بلکہ ایک مکمل نیورولوجیکل عمل بن جاتی ہے۔
تاہم، سائنسدان یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ محبت صرف کیمیاء نہیں ہے۔ ہارمونس ابتدائی کشش پیدا کرتے ہیں، لیکن اعتماد، احترام اور مشترکہ تجربات ہی تعلقات کو زندہ رکھتے ہیں۔
لہٰذا، اس ویلنٹائن ڈے پر اگر دل کی دھڑکن تیز ہو یا اردگرد تتلیاں سی اُڑ رہی ہوں، تو سمجھ لیں کہ یہ شاید کیوپڈ کا تیر نہیں بلکہ آپ کے دماغ کی انتہائی پرجوش کیمیائی محفل ہے۔
