ہفتہ کی رات آسمان پر ایک نایاب اور دلکش منظر دیکھنے کو ملے گا جب چھ سیارے ایک قطار کی صورت میں نظر آئیں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر موسم صاف رہا تو دنیا کے بیشتر حصوں میں یہ نظارہ عام آنکھ سے دیکھا جا سکے گا۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق اس ترتیب کو ’سیاروی پریڈ‘ کہا جاتا ہے۔
یہ منظر اس وقت بنتا ہے جب سیارے سورج کے گرد گردش کرتے ہوئے زمین کے زاویے سے ایک خاص ترتیب میں دکھائی دیتے ہیں۔
کون سے سیارے نظر آئیں گے؟
اس نادر موقع پر درج ذیل سیارے دیکھے جا سکیں گے:
عطارد
زہرہ
زحل
مشتری
یہ چار سیارے عام آنکھ سے دکھائی دیں گے، جبکہ:
یورینس
نیپچون
کو دیکھنے کے لیے دوربین یا ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی۔
بہترین وقت کب ہوگا؟
غروبِ آفتاب کے فوراً بعد
یا طلوعِ آفتاب سے کچھ دیر پہلے
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاروں کو واضح دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ افق سے کم از کم 10 ڈگری اوپر ہوں۔ شہری روشنیوں سے دور کسی کھلے مقام کا انتخاب بہتر رہے گا۔
سیاروں کو کیسے پہچانیں؟
زہرہ سب سے زیادہ روشن دکھائی دے گا۔
مریخ سرخی مائل نقطے کی شکل میں نظر آتا ہے۔
زحل ہلکا پیلا دکھائی دیتا ہے۔
مشتری اکثر سر کے اوپر چمکتا دکھائی دیتا ہے۔
عطارد کو غروبِ آفتاب کے 30 سے 60 منٹ بعد افق کے قریب تلاش کریں۔
اس منظر کو دیکھنے کے لیے کسی خاص حفاظتی عینک کی ضرورت نہیں، جیسا کہ سورج گرہن کے دوران ہوتی ہے۔
آنے والے دنوں میں مزید فلکی مناظر
مکمل چاند گرہن (بلڈ مون)
31 مئی کو ’بلیو مون‘
جون میں زہرہ اور مشتری کا قریب آنا
ماہرین کے مطابق یہ نایاب مناظر ہمیں نظامِ شمسی کی خوبصورتی اور کائنات کی وسعت کا احساس دلاتے ہیں اور فلکیات میں دلچسپی بڑھانے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔
