اگلے چند ایک سالوں میں انٹرنیٹ ٹریفک میں بڑا بدلاؤ دیکھنے کو ملے گا۔ کمپنیاں کمائی کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہیں، جن میں اے آئی کمپنیوں کا سب سے بڑا کردار ہوگا۔

i
انٹرنیٹ کی دنیا ایک بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ اس بار تبدیلی صرف اتنی نہیں ہے کہ لوگ زیادہ آن لائن آئیں گے، بلکہ اصل تبدیلی یہ ہے کہ آنے والے وقت میں انٹرنیٹ پر ٹریفک تیزی سے بڑھے گا، لیکن اسے چلانے والے انسان نہیں بلکہ مشینیں ہوں گی۔ دنیا کی بڑی انٹرنیٹ سیکورٹی کمپنی ’کلاؤڈفلیئر‘ کے سربراہ ’میتھیو پرنس‘ نے کہا ہے کہ 2027 تک انٹرنیٹ پر انسانوں کے مقابلے میں بوٹس کی سرگرمیاں زیادہ ہو جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں انٹرنیٹ کا مجموعی ٹریفک ریکارڈ سطح تک پہنچ جائے گا، لیکن اس میں انسانوں کی حصہ داری کم ہوتی جائے گی۔ یعنی انٹرنیٹ پہلے سے زیادہ مصروف ہوگا، ویب سائٹس پر ٹریفک زیادہ آئے گا، لیکن ان میں حقیقی صارفین کم ہوں گے۔
درحقیقت، اب تک ویب سائٹ ٹریفک کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ لوگ آ رہے ہیں، پڑھ رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اب اس میں بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ اب ٹریفک کا بڑا حصہ ان بوٹس سے آئے گا جو مسلسل ویب سائٹس کو اسکین کرتے ہیں، ڈاٹا حاصل کرتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر نیا مواد تیار کرتے ہیں۔ اس کے اثرات بہت بڑے ہوں گے۔
میتهیو پرنس نے ایک کانفرنس میں مثال دیتے ہوئے وضاحت کی کہ اگر کوئی انسان ڈیجیٹل کیمرہ خریدنے کے لیے 5 ویب سائٹس دیکھتا ہے تو یہ اس کی حد ہے۔ جبکہ ایک اے آئی ایجنٹ یا بوٹ اتنے ہی وقت میں 1000 یا پھر 5000 ویب سائٹس کو بھی اسکین کر سکتا ہے۔ یہ سب حقیقی ٹریفک میں شمار ہوگا اور ویب سائٹس پر ویسا ہی بوجھ ڈالے گا جیسا کسی انسان کے آنے سے پڑتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنریٹو اے آئی سے پہلے انٹرنیٹ کے تقریباً 20 فیصد حصے پر بوٹ ٹریفک ہوتا تھا، لیکن 2027 تک یہ انسانوں سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔ اس کے لیے ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں بھی آئیں گی۔
پہلی نظر میں یہ لگ سکتا ہے کہ ویب سائٹس کے لیے یہ اچھی خبر ہے، کیونکہ زیادہ ٹریفک کا مطلب زیادہ وزٹس ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ یہ ٹریفک حقیقی نہیں ہوگا بلکہ ڈاٹا حاصل کرنے کے لیے ہوگا۔ یعنی ویب سائٹس کھل رہی ہوں گی، سرور پر بوجھ بڑھ رہا ہوگا، لیکن سامنے کوئی انسان موجود نہیں ہوگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے انٹرنیٹ کی معیشت پر دباؤ شروع ہوتا ہے۔ آج ویب سائٹس کی آمدنی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ کتنے لوگ ان کے صفحات پر آئے، کتنی دیر رکے اور کتنے اشتہارات دیکھے۔ لیکن اگر ٹریفک کا بڑا حصہ مشینوں پر مشتمل ہو گیا تو یہ پورا ماڈل ہل جائے گا، کیونکہ مشینیں نہ اشتہارات دیکھتی ہیں اور نہ خریداری کرتی ہیں۔ تاہم، اس سے کمائی کے نئے راستے بھی کھل سکتے ہیں۔
کئی بڑی کمپنیاں اب ایسے نظام بنانے میں مصروف ہیں جہاں ویب سائٹس بوٹس سے بھی فیس وصول کر سکیں۔ یعنی اگر کوئی مشین آپ کا ڈاٹا استعمال کرنا چاہتی ہے تو اسے اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ یہ ایک بالکل نیا ماڈل ہوگا جہاں انسانوں کی جگہ مشینیں یعنی بوٹس گاہک بنیں گے۔ دوسری جانب، یہ ٹریفک صرف تعداد نہیں بڑھا رہا بلکہ انٹرنیٹ کے ڈھانچے کو بھی بدل رہا ہے۔ ایک انسان دن میں محدود بار ہی کسی ویب سائٹ پر جا سکتا ہے، لیکن ایک بوٹ ایک سیکنڈ میں ہزاروں درخواستیں بھیج سکتا ہے۔ اسی وجہ سے آنے والے وقت میں انٹرنیٹ ٹریفک کئی گنا بڑھ سکتا ہے اور سرور لوڈ، ڈاٹا ٹرانسفر اور نیٹ ورک پر دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ ہوگا۔
مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ اگلے چند ایک سالوں میں انٹرنیٹ ٹریفک میں بڑا بدلاؤ دیکھنے کو ملے گا۔ کمپنیاں کمائی کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہیں، جن میں اے آئی کمپنیوں کا سب سے بڑا کردار ہوگا۔ اگر ان پر مناسب کنٹرول نہ کیا گیا تو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ’کلاؤڈفلیئر‘ دنیا کی بڑی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کمپنیوں میں شامل ہے۔ یہ دنیا بھر کی متعدد بڑی ویب سائٹس کو خدمات فراہم کرتی ہے، جن میں کانٹینٹ ڈلیوری نیٹ ورک (سی ڈی این) بھی شامل ہے۔ اس کمپنی میں کسی خرابی (گلچ) کی صورت میں کئی بار عالمی سطح پر انٹرنیٹ سروسز متاثر ہو جاتی ہیں اور متعدد ویب سائٹس بند ہو جاتی ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
