آج کل گلوبل مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں ایک عجیب صورتحال سے گزر رہی ہیں۔ حال ہی میں سونے کی قیمت میں اچانک چار فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔ یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب مسلسل نو دنوں سے سونے کی قیمتیں گر رہی تھیں۔
اس اچانک تبدیلی کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ معاملات میں بہتری اور ایک ”تحفے“ کا ذکر کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے اس اشارے سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم ہو جائے اور امن مذاکرات کا آغاز ہو سکے۔
عام طور پر دیکھا جائے تو جب دنیا میں امن کی امید بڑھتی ہے، تو سونے کی قیمت کم ہونی چاہیے کیونکہ سونا ایک محفوظ سرمایہ سمجھا جاتا ہے جسے لوگ جنگ یا خطرے کے وقت خریدتے ہیں۔ لیکن اس بار معاملہ الٹ نظر آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ کسی پائیدار بھروسے کی وجہ سے نہیں بلکہ مارکیٹ میں ہونے والی وقتی تبدیلیوں اور ’شارٹ کَورنگ‘ کا نتیجہ ہے۔
یعنی وہ تاجر جو قیمتیں گرنے کی توقع کر رہے تھے، انہوں نے نقصان سے بچنے کے لیے جلدی میں سونا خریدنا شروع کر دیا، جس سے قیمت اوپر چلی گئی۔
سونے کی اس غیر یقینی صورتِ حال نے سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا اب بھی سونے پر پہلے جیسا بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟
اگر ہم پچھلے چند مہینوں کا جائزہ لیں تو سونا اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 20 فیصد نیچے گر چکا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ مارکیٹ میں نقد رقم یا ’لیکویڈیٹی‘ کی ضرورت ہے۔
جب دنیا میں بہت زیادہ معاشی تناؤ بڑھتا ہے، تو بڑے سرمایہ کار نقد رقم حاصل کرنے کے لیے سونا بیچنا شروع کر دیتے ہیں، جس سے اس کی قیمت گر جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات شدید غیر یقینی کے باوجود سونا سستا ہو رہا ہوتا ہے۔
ایک عام شہری کے لیے، جو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سونے کی شکل میں محفوظ کرتا ہے، موجودہ صورتِ حال کافی تشویشناک ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ ایسے غیر یقینی حالات میں جب قیمتیں سیاسی بیانات کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہی ہوں، جذبات میں آ کر بڑی خریداری یا جلد بازی میں اپنی جمع پونجی بیچنے سے گریز کرنا چاہیے۔
ایک عام آدمی کے لیے سونا طویل مدتی سرمایہ ہے، اس لیے روزانہ کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر پریشان ہونے کے بجائے خاموشی سے انتظار کرنا ہی بہتر ہے، کیونکہ سیاست کے وقتی طوفان تو آتے جاتے رہتے ہیں مگر سونے کی اپنی قدر ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سونے کی قیمتوں کا مستقبل اب 4600 ڈالر کی سطح پر منحصر ہے۔ اگر قیمت اس سے اوپر برقرار رہتی ہے تو مارکیٹ میں استحکام آئے گا، ورنہ قیمتیں مزید گر کر 4100 ڈالر تک بھی جا سکتی ہیں۔ تاہم، ان تمام اتار چڑھاؤ کے باوجود ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ سونا اپنی بنیادی حیثیت نہیں کھوئے گا۔
یہ اب بھی مہنگائی اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کے خلاف ایک بہترین ڈھال ہے، لیکن فی الحال صدر ٹرمپ کے بیانات اور سیاسی تبدیلیوں نے اسے ایک پرخطر کھیل بنا دیا ہے۔
