کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد


ڈنمارک نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ڈنمارک حکومت نے کہا ہے کہ والدین کو 13 سال تک کے بچوں کو محدود طور پر چند پلیٹ فارمز تک رسائی دینے کی اجازت ہوگی، تاہم 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کا عمومی استعمال ممنوع ہوگا۔

 یہ اقدام وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن کی جانب سے گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں نوجوانوں کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز کے بعد کیا گیا ہے۔

 ڈینش وزیرِ ڈیجیٹلائزیشن کیرولائن اسٹیج اولسن نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بچوں کا وقت، بچپن اور ذہنی سکون چھین رہے ہیں، اور اب حکومت اس عمل کو روکنے جا رہی ہے۔

 پارلیمنٹ کی اکثریت نے مجوزہ قانون کی حمایت کا عندیہ دیا ہے، اور توقع ہے کہ اس کی باضابطہ منظوری جلد دے دی جائے گی۔

 ڈنمارک حکومت کے مطابق ملک میں بچوں کے زیرِ استعمال سب سے مقبول پلیٹ فارمز میں اسنیپ چیٹ، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک شامل ہیں۔

 رواں سال فروری میں جاری ایک سرکاری تجزیے کے مطابق ڈنمارک کے نوجوان روزانہ اوسطاً 2 گھنٹے 40 منٹ سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔

 واضح رہے کہ ڈنمارک سے قبل آسٹریلیا نے گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی تھی۔

Related posts

پال میسکل نے اداکاری کے وقفے کے تبصرے کی وضاحت کی جب وہ پال میک کارٹنی کے کردار کو چھیڑتے ہیں

فلوریڈا کے آدمی نے مصروف چوراہوں پر کیل بکھرے ہوئے مبینہ طور پر منعقد کیا

شان پین کی ایتھلیٹک گرل فرینڈ تازہ ترین تصاویر کے ساتھ ابرو اٹھاتی ہے