چین کا بغیر ڈرائیور گاڑیوں کی پیداوار سے متعلق بڑا فیصلہ


چین جدید اور خودکار کاروں کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور فروخت کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی رفتار سست کرنے جا رہا ہے۔ چین کی جانب سے یہ اقدام خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کے سبب ہونے والے ایک مہلک حادثے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق چینی حکام نے مزید خود کار گاڑیوں کی فروخت کی اجازت کے طلب گار کار سازوں کے نو پروپوزل میں سے دو کی منظوری دی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک وہیکل آٹو میشن کی جانب لے جانے کے عمل میں رفتار کم کرنے جا رہا ہے۔

تجزیہ کار اس اقدام کا تعلق ریگولیٹری اتھارٹی کے سخت موقف اور مارچ میں ہونے والے ایک حادثے سے جوڑ رہے ہیں۔ حادثے میں شیاؤمی کی ایس یو 7 الیکٹرک کار کی ٹکر سے یونیورسٹی کے تین طالبِ علم ہلاک ہوگئے تھے۔

کار 115.8 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے معاون ڈرائیونگ سسٹم کے ساتھ دوڑ رہی تھی جب سسٹم نے سڑک پر جاری کام کی وجہ سے لین کے بند ہونے کی نشان دہی کی۔ سسٹم نے ایک باآواز بلند انتباہ جاری کیا جس کے بعد ڈرائیور نے کنٹرول سنبھالا لیکن گاڑی بمشکل ایک سیکنڈ بعد کنکریٹ کی رکاوٹ سے ٹکرا گئی۔

 

 

Related posts

پینٹاگون نے پابندی کے باوجود ایران پر حملے میں اینتھروپکس کلاڈ اے آئی کا استعمال کیا: رپورٹ

نول گالاگھر نے BRIT ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد ناقدین کو شٹ اپ کال دی۔

اسپیس ایکس نے مغربی ساحل سے اپنے فالکن 9 بوسٹر پر 25 اسٹار لنک سیٹلائٹ لانچ کیے