انسان کی چاند پر واپسی کی تیاری


اپولو 17 مشن کے 50 سال سے زائد عرصے بعد، 1972 کے بعد پہلی بار انسانیت ایک نئے قمری دور کا آغاز کر رہی ہے۔ ناسا کے ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ، اور کینیڈین خلائی ایجنسی کے جیریمی ہینسن پر مشتمل عملہ چاند کی طرف روانہ ہونے والا ہے۔ لیکن اس نئے آرٹیمس 2 مشن کی تفصیلات میں کئی ایسے حیران کن حقائق پوشیدہ ہیں جن سے زیادہ تر لوگ واقف نہیں۔ ذیل میں اس تاریخی کوشش کے سب سے زیادہ مؤثر اور غیر متوقع پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ایک خلائی جہاز کا زمین پر سست سفر

یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ 98 میٹر بلند اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کو لانچ پیڈ تک صرف 6.5 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 12 گھنٹے لگے۔ اسے ایک دیوہیکل مشین، جسے کرالر-ٹرانسپورٹر کہا جاتا ہے، نے صرف 1.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے منتقل کیا۔ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ خلا کے سفر کو شروع کرنے کے لیے کس قدر بڑی اور وزنی مشینری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آسمانی کامیابیوں سے پہلے زمینی چیلنجز پر قابو پانا کتنا ضروری ہے۔

Related posts

گیوینتھ پیلٹرو ٹموتھی چیلمیٹ کے ساتھ مباشرت مناظر کی شوٹنگ کے بارے میں ایماندار ہو جاتا ہے

عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی طلب موجود ہے ‘ پی سی ایم ای اے وزیر اعظم قالینوں کی برآمدی صنعت کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے مداخلت کریں‘ قائمقام چیئرمین عالمی سطح پر موثر تشہیر کیلئے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کی سبسڈی فوری طور پر بحال کی جائے‘ ریاض احمد

نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ کمر میں درد بعد میں زندگی میں مردوں کی نیند کے معیار کو متاثر کرسکتا ہے