ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی حفاظت کے معاملے پر ایک بار پھر کھلی بحث سامنے آ گئی ہے۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایلون مسک نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ اپنے قریبی افراد کو چیٹ جی پی ٹی استعمال نہ کرنے دیں۔
فوربز کے مطابق مسک نے ایک کرپٹو انفلوئنسر اکاؤنٹ کی پوسٹ ری شیئر کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیٹ جی پی ٹی کو نو اموات سے جوڑا گیا ہے، جن میں پانچ کیسز میں خودکشی کا الزام شامل ہے۔ اس دعوے میں کہا گیا کہ ان واقعات میں نوجوان اور بالغ افراد شامل تھے۔
مسک نے اس پوسٹ کے ساتھ لکھا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے پیاروں کو اس چیٹ بوٹ کے استعمال سے دور رکھیں۔ تاہم فوربز کے مطابق ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور پوسٹ کرنے والے اکاؤنٹ نے اس دعوے کا کوئی واضح ذریعہ بھی فراہم نہیں کیا۔
مسک کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی سیم آلٹ مین نے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات اگر درست ہوں تو یہ انتہائی افسوسناک ہیں، مگر ساتھ ہی انہوں نے اس معاملے کو سادہ انداز میں کسی ایک ٹیکنالوجی پر ڈالنے سے گریز کیا۔
آلٹ مین نے اپنے ردِعمل میں مسک کے اپنے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیسلا کا آٹو پائلٹ سسٹم بھی ماضی میں سنگین حادثات سے جوڑا جا چکا ہے اور اس کی حفاظت پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
آلٹ مین نے اپنے بیان میں کہا کہ اطلاعات کے مطابق ٹیسلا کے آٹو پائلٹ سے منسلک حادثات میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود صرف ایک بار ایسی گاڑی میں بیٹھے تھے اور ان کا پہلا تاثر یہی تھا کہ یہ نظام سڑک پر متعارف کرانے کے لیے محفوظ نہیں لگتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ گروک سے متعلق بعض فیصلوں پر بات بھی نہیں کرنا چاہتے۔
اسی حوالے سے ایک سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا کی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن نے حالیہ برسوں میں ٹیسلا کے آٹو پائلٹ کو تقریباً ایک ہزار حادثات سے جوڑا ہے، جن میں درجنوں جان لیوا واقعات بھی شامل ہیں۔
تحقیقات کے مطابق کئی حادثات میں ڈرائیور کی توجہ نہ ہونا ایک بڑی وجہ تھی اور بعض افراد نے غلطی سے یہ سمجھ لیا تھا کہ یہ نظام مکمل خودکار ڈرائیونگ فراہم کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایلون مسک مسلسل یہ مؤقف دہراتے آئے ہیں کہ آٹو پائلٹ انسانی غلطیوں کو کم کرتا ہے اور مجموعی طور پر سڑکوں کو زیادہ محفوظ بناتا ہے۔
مسک اور آلٹ مین کے درمیان یہ کشمکش نئی نہیں۔ دونوں نے 2015 میں اوپن اے آئی کی بنیاد ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر رکھی تھی، جس کا مقصد انسانیت کے فائدے کے لیے اے آئی تیار کرنا تھا۔ 2018 میں مسک ادارے سے الگ ہو گئے تھے اور اوپن اے آئی کے منافع بخش ماڈل اور مائیکروسافٹ کے ساتھ شراکت داری پر تنقید کرتے رہے، جبکہ آلٹ مین کا کہنا ہے کہ جدید اے آئی تحقیق کے لیے یہ تبدیلیاں ناگزیر تھیں۔
یہ تازہ تنازع ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کر رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام، خاص طور پر حفاظت، اخلاقی حدود اور ضابطہ سازی پر متوازن گفتگو کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، جبکہ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم دکھائی دیتے ہیں۔