سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان کی آٹو موبائل مارکیٹ میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ سوزوکی ویگن آر اور مشہور زمانہ ’’کیری ڈبہ‘‘(بولان) کی باضابطہ بندش کے بعد کم بجٹ میں گاڑی خریدنے والے صارفین اب نئی جنریشن کی انٹری لیول گاڑیوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مہنگائی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود سوزوکی آلٹو اب بھی پاکستان کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور محفوظ سرمایہ کاری سمجھی جا رہی ہے۔ 660 سی سی انجن، بہترین فیول ایوریج اور مضبوط ری سیل ویلیو کی وجہ سے آلٹو متوسط طبقے کی پہلی ترجیح بنی ہوئی ہے۔ 2026 میں اس کی قیمت 23.3 سے 30.5 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔
دوسری جانب سوزوکی ایوری نے باضابطہ طور پر بولان کی جگہ لے لی ہے۔ یہ گاڑی جدید EFI انجن، بہتر سسپنشن، مؤثر ایئر کنڈیشننگ اور اضافی سیفٹی فیچرز کے ساتھ متعارف کرائی گئی ہے۔ وسیع کیبن کے باعث یہ گاڑی بڑے خاندانوں اور کمرشل استعمال کے لیے تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جبکہ اس کی قیمت 27.5 سے 28 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔
جاپانی امپورٹ گاڑیوں میں ڈائی ہاٹسو میرا اور نسان ڈیز نمایاں ہیں۔ ڈائی ہاٹسو میرا کم ایندھن خرچ، آرام دہ ڈرائیو اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے پسند کی جاتی ہے، تاہم اس کے اسپیئر پارٹس مہنگے ہیں۔
نسان ڈیز کو 660 سی سی گاڑیوں میں ’’لگژری آپشن‘‘ کہا جا رہا ہے، مگر اس کی قیمت اور مینٹیننس لاگت نسبتاً زیادہ ہے۔
سوزوکی کلٹس اب بھی 1000 سی سی کی مقبول ہیچ بیک ہے، لیکن 2026 میں اس کی قیمت 40 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث یہ سستی گاڑیوں کی فہرست کے آخری کنارے پر پہنچ گئی ہے۔
استعمال شدہ مارکیٹ میں ویگن آر اور ٹویوٹا وِٹس اب بھی دستیاب ہیں اور کم بجٹ مگر قدرے بڑی گاڑی کے خواہشمند افراد کے لیے بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر محفوظ سرمایہ کاری درکار ہو تو سوزوکی آلٹو، زیادہ جگہ کے لیے سوزوکی ایوری اور آرام و سہولت کے شوقین افراد کے لیے جاپانی امپورٹ گاڑیاں بہترین انتخاب ہیں۔