ایلون مسک کی چاند پر شہر بسانے کی تیاری، انتظامات کیا ہوں گے؟


ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلابی شخصیت اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے اپنی خلائی کمپنی کی ترجیحات میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب اسپیس ایکس کی توجہ چاند پر ایک ”ترقی پزیرشہر“ تعمیر کرنے پر مرکوز کر دی گئی ہے، جو ممکنہ طور پر آئندہ دس سال سے بھی کم عرصے میں مکمل ہو سکتا ہے۔

اس اعلان کو خلائی تحقیق کے مستقبل میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایلون مسک نے اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ اگرچہ مریخ پر شہر بسانے کا خواب اب بھی ان کے منصوبوں کا حصہ ہے اور اس پر آئندہ پانچ سے سات سال میں کام شروع کیا جا سکتا ہے، تاہم اس وقت سب سے بڑی ترجیح انسانی تہذیب کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔

مسک کے مطابق یہ ہدف مریخ کے مقابلے میں چاند کے ذریعے زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ایلون مسک کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وال اسٹریٹ جرنل کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسپیس ایکس نے اپنے سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا ہے کہ وہ پہلے چاند پر جانے کو ترجیح دے گی، جبکہ مریخ کا مشن بعد کے مرحلے میں رکھا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق، اسپیس ایکس مارچ 2027 میں بغیر عملے کے ایک خلائی مشن کے ذریعے چاند پر لینڈنگ کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جسے مستقبل کے بڑے منصوبوں کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے

واضح رہے کہ گزشتہ سال تک ایلون مسک یہ کہتے رہے تھے کہ 2026 کے اختتام تک مریخ پر بغیر عملے کا مشن بھیجا جائے گا، تاہم اب ان منصوبوں میں تبدیلی نظر آ رہی ہے۔

یہ تمام پیش رفت ایک ایسے عالمی تناظر میں ہو رہی ہے جہاں امریکا اور چین کے درمیان چاند پر انسانوں کو دوبارہ بھیجنے کی دوڑ تیز ہو چکی ہے۔

انسان آخری مرتبہ 1972 میں اپولو 17 مشن کے تحت چاند کی سطح پر پہنچے تھے، اور اس کے بعد سے اب تک کوئی انسانی مشن وہاں نہیں گیا۔

ماہرین کے مطابق، آنے والے برسوں میں چاند ایک بار پھر عالمی خلائی سیاست اور تحقیق کا مرکز بن سکتا ہے۔

اسی دوران، ایلون مسک نے ایک اور اہم اعلان میں بتایا کہ اسپیس ایکس نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی ایکس اے آئی کو خرید لیا ہے۔ اس سودے میں ایکس اے آئی کی مالیت 250 ارب ڈالر جبکہ اسپیس ایکس کی مجموعی قدر ایک کھرب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔

اس اقدام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے اسپیس ایکس کو خلا میں ڈیٹا سینٹرز بنانے کے منصوبوں میں مدد ملے گی، جنہیں ایلون مسک زمینی ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں زیادہ توانائی مؤثر سمجھتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت کی ترقی کے باعث کمپیوٹنگ پاور کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق، اسپیس ایکس رواں سال کے آخر میں عوامی سطح پر شیئرز کی فروخت، یعنی آئی پی او، پر بھی غور کر رہی ہے۔

اس کے ذریعے ممکنہ طور پر 50 ارب ڈالر تک اکٹھے کیے جا سکتے ہیں، اور اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اسے تاریخ کی سب سے بڑی عوامی پیشکش قرار دیا جا سکتا ہے۔

اتوار ہی کے روز ایلون مسک نے اسپیس ایکس کا پہلا سپر باؤل اشتہار بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس میں کمپنی کی اسٹارلنک وائی فائی سروس کو نمایاں کیا گیا۔

یہ اشتہار اسپیس ایکس کی جانب سے عوامی سطح پر اپنی خدمات کے فروغ کی ایک نئی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔

ادھر ایلون مسک اپنی ایک اور بڑی کمپنی، ٹیسلا، کو بھی ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہے ہیں۔

عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی منڈی قائم کرنے کے بعد، ٹیسلا اب خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی اور روبوٹکس پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

اس مقصد کے لیے کمپنی رواں سال تقریباً 20 ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ٹیسلا کے سربراہ کے مطابق، اس تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے کیلیفورنیا میں واقع ٹیسلا کی فیکٹری میں دو کار ماڈلز کی پیداوار بند کی جا رہی ہے، تاکہ وہاں آپٹیمس نامی ہیومنائیڈ روبوٹس تیار کیے جا سکیں، جنہیں مستقبل کی صنعت کا اہم ستون قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کے یہ فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف خلاء بلکہ زمین پر بھی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں کے ذریعے مستقبل کی دنیا کی تشکیل کا واضح وژن رکھتے ہیں۔

چاند پر شہر بسانے کا منصوبہ ہو یا روبوٹس کے ذریعے صنعت کو بدلنے کی کوشش، یہ تمام اقدامات ایک ایسے مستقبل کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں انسان اپنی موجودہ حدود سے کہیں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Related posts

واٹس ایپ نے ایک اور اہم فیچر متعارف کروا دیا

تربیت کے دوران فوجی ہیلی کاپٹر کے گر کر تباہ ہونے کے بعد دو ہلاک ہوگئے

ڈونلڈ ٹرمپ نے برا بنی کی سپر باؤل پرفارمنس پر طنز کیا: ‘بالکل خوفناک’