پہلا سورج گرہن کب ہوگا؟ ماہرین سے جانیے


رواں سال کا پہلا سورج گرہن 17 فروری کو ہوگا جو کہ اینولر یا رِنگ آف فائر سورج گرہن ہوگا، تاہم یہ پاکستان سمیت ایشیا کے بیشتر ممالک میں نظر نہیں آئے گا۔

ماہرین فلکیات کے مطابق اس گرہن کے دوران چاند سورج کے عین سامنے آئے گا مگر چونکہ چاند اس وقت زمین سے نسبتاً دور ہوگا، اس لیے سورج مکمل طور پر نہیں چھپے گا بلکہ سورج کے گرد آگ کے دائرے جیسا منظر نظر آئے گا جسے رِنگ آف فائر کہا جاتا ہے۔

اگلے سال دو سورج اور دو چاند گرہن ہوں گے، محکمہ موسمیات

فلکیاتی اداروں کے مطابق یہ گرہن 17 فروری کو ہوگا اور اس کا زیادہ سے زیادہ مرحلہ عالمی وقت کے مطابق تقریباً 12 بج کر 12 منٹ پر ہوگا جبکہ مکمل عمل تقریباً 09:56 سے 14:27 یو ٹی سی تک جاری رہے گا۔

ماہرین کے مطابق مکمل رِنگ آف فائر کا نظارہ صرف انٹارکٹیکا کے دور دراز علاقوں میں ممکن ہوگا جبکہ جنوبی افریقا، جنوبی امریکا اور سمندری علاقوں کے کچھ حصوں میں جزوی سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔

سائنس ویب سائٹس کے مطابق اس گرہن کے دوران چاند سورج کے تقریباً 96 فیصد حصے کو ڈھانپے گا اور یہ منظر زیادہ سے زیادہ تقریباً دو منٹ تک دیکھا جا سکے گا۔

ناسا کا نیا منصوبہ: چاند کے سفر میں عام افراد کی شمولیت، طریقہ کار جانیں

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، بھارت اور ایشیا کے بیشتر علاقوں میں یہ گرہن نظر نہیں آئے گا، تاہم دنیا بھر کے لوگ اسے لائیو اسٹریم کے ذریعے دیکھ سکیں گے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے خصوصی حفاظتی چشمے استعمال کرنا ضروری ہوتے ہیں کیونکہ براہ راست سورج کو دیکھنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

Related posts

واٹس ایپ پریمیم متعارف کروا دیا گیا

پیئرس مورگن نے آخر کار ساوانا گتری کی والدہ نینسی کے اغوا پر خاموشی توڑ دی

لینور ٹیلر نے دہائی طویل مدت ملازمت کے بعد گارڈین آسٹریلیا کے ایڈیٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا