گوشت کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟ خود ساختہ مہنگائی یا رسد کا بحران؟


ملک بھر میں مٹن، بیف اور چکن کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ شہریوں کے لیے باعثِ تشویش بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اضافہ واقعی رسد و طلب کے فرق کا نتیجہ ہے یا پھر خود ساختہ مہنگائی اس کے پیچھے کارفرما ہے؟

طلب اور رسد کا توازن

ماہرین کے مطابق گوشت کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ طلب اور رسد کے درمیان عدم توازن ہے۔ شہری آبادی میں اضافہ، تقریبات اور سیزنل ڈیمانڈ کے باعث گوشت کی کھپت بڑھتی ہے، جبکہ مویشیوں کی محدود دستیابی قیمتوں کو اوپر لے جاتی ہے۔

فیڈ اور ایندھن کی لاگت

مویشی پال حضرات کا کہنا ہے کہ جانوروں کے چارے، ٹرانسپورٹ اور ایندھن کے اخراجات میں اضافہ بھی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ٹرانسپورٹیشن اخراجات بالآخر صارف تک منتقل ہو جاتے ہیں۔

منافع خوری اور نگرانی کا فقدان

دوسری جانب شہری حلقوں کا مؤقف ہے کہ قیمتوں میں اضافہ صرف لاگت کا نتیجہ نہیں بلکہ منافع خوری اور سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے بھی ہے۔ مارکیٹ میں چیک اینڈ بیلنس کے مؤثر نظام کی کمی اور ضلعی انتظامیہ کی کمزور نگرانی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

پولٹری سیکٹر کے چیلنجز

چکن کی قیمتوں میں اضافہ پولٹری فیڈ کی مہنگائی، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور درآمدی اجزا کی قیمت بڑھنے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پولٹری انڈسٹری کے نمائندوں کے مطابق پیداوار کی لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

حل کیا ہو سکتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ:

سپلائی چین کو بہتر بنایا جائے

ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے

سرکاری نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے

مقامی مویشی منڈیوں اور پولٹری سیکٹر کو سہولیات فراہم کی جائیں

موجودہ صورتحال میں یہ واضح ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے پیچھے متعدد عوامل کارفرما ہیں، تاہم مؤثر حکومتی نگرانی اور شفاف پالیسی اقدامات کے بغیر مہنگائی پر قابو پانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

 

Related posts

ناسا کے ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کو ‘ڈریکلا ڈسک’ کا پتہ چلتا ہے ، جو نظام شمسی سے 40 گنا بڑا ہے

زین ملک گیگی حدید کے ساتھ محبت نہ ہونے کے بارے میں ماضی کے تبصروں کی وضاحت کرتا ہے

یوروپی یونین کی نئی حکمت عملی کا مقصد بدنیتی پر مبنی ڈرون کے خطرے کو روکنا ہے