پاکستان کی سافٹ ویئر صنعت کی بڑی تنظیم نے حکومت کے 2030 تک مصنوعی ذہانت میں ایک ارب ڈالر کے منصوبے کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ اعلان انڈس اے آئی ہفتہ کے دوران اسلام آباد میں کیا گیا، جہاں وزیرِاعظم نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ملک کی مضبوط حکمت عملی پیش کی، جس میں تربیت، وظائف اور انسانی وسائل کی ترقی شامل ہیں۔
تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ آئی ٹی شعبہ اب صرف معیشت کا حصہ نہیں بلکہ ملک کی ترقی اور عالمی مسابقت کے لیے بھی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری اب ضرورت اور قومی ضرورت بن گئی ہے۔
حکومت کے منصوبے میں شامل اقدامات:
1۔ مصنوعی ذہانت میں ایک ہزار تحقیقی وظائف فراہم کرنا
2۔ تقریباً ایک لاکھ افراد کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دینا
انڈس اے آئی ہفتہ میں مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں، یونیورسٹیوں اور سرمایہ کاروں نے بھی شرکت کی اور مختلف ورکشاپس و پینلز کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی ترقی اور استعمال پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات دو اعشاریہ دو ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں بیس فیصد زیادہ ہیں، اس طرح ملک ٹیکنالوجی کے شعبے میں مستقل ترقی کر رہا ہے۔