چینی کمپنی بائٹ ڈانس کی جانب سے تیار کردہ ایک نئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل نے اس ہفتے ہالی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ یہ ماڈل نہ صرف اپنی حیران کن صلاحیتوں کی وجہ سے خبروں میں ہے بلکہ اس کے تخلیقی صنعتوں پر ممکنہ اثرات نے بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی بائٹ ڈانس کے تیار کردہ ‘سیدنس’ نامی اس ماڈل میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ محض چند تحریری ہدایات کی بنیاد پر سنیما معیار کی ویڈیوز تیار کر سکتا ہے۔
جن میں صوتی اثرات اور مکالمے بھی شامل ہوتے ہیں۔
سیدنس کے ذریعے بنائی گئی متعدد ویڈیوز، جن میں مقبول کردار جیسے اسپائیڈر مین اور ڈیڈ پول شامل ہیں، سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔
اس پیش رفت کے بعد بڑی فلمی کمپنیوں جیسے والٹ ڈزنی کمپنی اور پیراماؤنٹ پکچرز نے فوری طور پر بائٹ ڈانس پر کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے متعلق خدشات محض قانونی معاملات تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات تخلیقی صنعتوں کے مستقبل پر بھی گہرے ہو سکتے ہیں۔