مریخ کا سمندر کہاں گیا، سیارہ خشک کیسے ہوا؟


سائنسدانوں نے مریخ کے پانی کے غائب ہونے کے راز کے بارے میں ایک اہم سراغ دریافت کیا ہے، جو طویل عرصے سے ماہرینِ فلکیات کے لیے ایک معمہ بنا ہوا تھا۔

آج مریخ ایک سرد اور خشک صحرا ہے، لیکن اس کی سطح پر نشانات موجود ہیں کہ کبھی یہاں ندی نالے بہتے تھے اور جھیلیں موجود تھیں۔

برسوں سے محققین یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ سیارہ اتنی ڈرامائی تبدیلی سے کیسے گزرا۔

حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مریخ پر ہونے والا ایک گرد و غبار کا طوفان پانی کے بخارات کو فضاء کی بلند سطح تک لے گیا، جس سے ہائیڈروجن خلا میں جانے کی شرح بڑھ گئی اور پانی مستقل طور پر ضائع ہونے لگا۔

اس نئی تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملی ہے کہ کس طرح مریخ رفتہ رفتہ ایک خشک اور بے آب و گیاہ دنیا میں تبدیل ہوگیا۔

بین الاقوامی سائنسی جریدے ’’کمیونیکیشنز ارتھ اینڈ انوائرنمنٹ‘‘ میں شائع ہونے والی تازہ تحقیق کے مطابق، طاقتور علاقائی گرد کے طوفان مریخ کی فضا میں پانی کے بخارات کی مقدار کو بہت زیادہ بڑھا سکتے ہیں۔

اسپین کے انسٹی ٹیوٹو ڈی آسٹروفیزیکا ڈی آندالوسیا، جاپان کی یونیورسٹی آف ٹوکیو اور ٹوہوکو یونیورسٹی کے سائنسدانوں پر مشتمل ٹیم نے دریافت کیا کہ 2022 سے 2023 کے دوران شمالی نصف کرۂ مریخ میں ایک شدید مگر محدود طوفان کے دوران پانی کے بخارات معمول سے تقریباً دس گنا زیادہ بلند سطح تک پہنچ گئے۔

اس کے نتیجے میں فضا کی بالائی سطح میں ہائیڈروجن کی مقدار بھی ڈھائی گنا بڑھ گئی۔

کیونکہ جب پانی کے مالیکیولز ٹوٹتے ہیں تو ہائیڈروجن خلا میں نکل جاتی ہے، اور ایک بار یہ ہائیڈروجن ضائع ہو جائے تو پانی واپس نہیں آ سکتا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف بڑے اور عالمی طوفان ہی نہیں بلکہ چھوٹے یا علاقائی طوفان بھی مریخ پر پانی کے تیزی سے ضیاع کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ مشاہدہ اس پہیلی کا ایک نیا ٹکڑا جوڑتا ہے کہ آخر مریخ کس طرح رفتہ رفتہ اپنی جھیلوں اور دریاؤں سے محروم ہو کر ایک خشک سیارہ بن گیا۔

Related posts

یہاں جاننے کے لئے سب کچھ ہے۔

جینیفر اینسٹن دوبارہ گلیارے پر چلنے کے لئے تیار ہیں؟

1 کروڑ 90 لاکھ کے چاول بغیر ادائیگی اٹھا لیے گئے