1 کروڑ 90 لاکھ کے چاول بغیر ادائیگی اٹھا لیے گئے


پبلک اکاؤنٹس کمیٹی آف پاکستان کے اجلاس میں ایک رائس مل سے ایک کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کے چاول بغیر ادائیگی اٹھائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

اجلاس کی صدارتمعین عامر پیرزادہنے کی، جس میں فنانس ڈویژن سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ دورانِ اجلاس آڈٹ حکام نے بتایا کہ بینک کے ایک قرض دار نے ایک کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کا چاول بغیر پیمنٹ حاصل کیا۔

کمیٹی رکن سید نوید قمر نے معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ اس پر سیکرٹری فنانس نے بتایا کہ ایک کروڑ 40 لاکھ روپے واپس کر دیے گئے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر بینک نے اپنا کردار ادا نہیں کیا اور کسی کے خلاف بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری رات چاول لوڈ ہوتے رہے لیکن کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔

بینک کے صدر نے کمیٹی کو بتایا کہ متعلقہ کمپنی کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس پر چیئرمین نے ہدایت کی کہ 15 دن کے اندر کمپنی کے خلاف کی جانے والی کارروائی سے آگاہ کیا جائے۔

 

Related posts

بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان جاپان 2031 تک تائیوان کے قریب میزائل کی تعیناتی کا ارادہ رکھتا ہے

کیٹ ہڈسن بغیر کسی توقع کے ایوارڈ سیزن کو سنبھالنے کی عکاسی کرتی ہیں۔

6 مشہور شخصیات جو بے چینی اور ‘گھبراہٹ کے حملوں’ کے بارے میں آواز اٹھا رہی ہیں۔