ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں گردش کرنے لگی ہیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کو نایاب فلکیاتی مظہر ’بلڈ مون‘ سے جوڑا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 2026ء کا پہلا چاند گرہن، جسے ’بلڈ مون‘ کہا جاتا ہے، یہودی مذہبی تہواروں جیسے پوریم اور روش ہشاناہ کے قریب ہوگا، جسے بعض افراد خطے میں بڑھتی کشیدگی سے جوڑ رہے ہیں۔
ان قیاس آرائیوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع اور ’بلڈ مون‘ کے اوقات کا ایک ساتھ آنا کسی قدیم پیشگوئی کی تکمیل ہو سکتا ہے۔ کچھ حلقے اسے سرخ بچھیا (Red Heifer) سے متعلق مذہبی تصورات سے بھی جوڑ رہے ہیں۔
تاہم ماہرین اور حقیقت پسند حلقے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر رہے ہیں کہ ’بلڈ مون‘ دراصل ایک مکمل چاند گرہن ہوتا ہے، جو سائنسی عمل کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے اور اس کا زمینی واقعات یا سیاسی حالات سے کوئی تعلق نہیں۔
ماہرین کے مطابق چاند گرہن ایک عام فلکیاتی مظہر ہے اور اسے غیر معمولی یا پراسرار قرار دینا درست نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کو سائنسی مظاہر سے جوڑنا بے بنیاد ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس قسم کی غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے عوام میں خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔
ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ مستند معلومات پر انحصار کریں اور غیر سائنسی قیاس آرائیوں سے گریز کریں، کیونکہ اس طرح کے دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔