واٹس ایپ پر کنٹرول سسٹم متعارف کروا دیا گیا


مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ بچوں کی آن لائن حفاظت کو بہتر بنانے کے لیے پیرنٹ مینیجڈ اکاؤنٹس کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔

اس فیچر کے ذریعے والدین اپنے بچوں کے اکاؤنٹس پر زیادہ کنٹرول حاصل کر سکیں گے۔کمپنی کے مطابق یہ نیا سسٹم خاص طور پر 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

اس میں بچوں کا اکاؤنٹ والدین کے اکاؤنٹ سے منسلک ہوگا تاکہ والدین یہ طے کر سکیں کہ ان کا بچہ کن افراد سے چیٹ کر سکتا ہے، کن گروپس میں شامل ہو سکتا ہے اور کن سیٹنگز کو استعمال کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ بچوں کی پرائیویسی سیٹنگز اور چیٹ سے متعلق کئی آپشنز بھی والدین کے کنٹرول میں ہوں گے۔

اس فیچر کے تحت ان خصوصی اکاؤنٹس میں بچوں کو صرف پیغامات بھیجنے اور کال کرنے کی سہولت دی جائے گی جبکہ اشتہارات بھی نہیں دکھائے جائیں گے۔

اگرچہ ایپ اسٹورز پر اس ایپ کی عمر کی حد 13 سال یا اس سے زیادہ رکھی گئی ہے، تاہم بہت سے کم عمر بچے اپنے والدین سے رابطے کے لیے پہلے ہی اس ایپ کا استعمال کر رہے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام میں بچے کا اکاؤنٹ بنانے کے لیے والدین یا سرپرست کو اپنے فون اور بچے کے فون دونوں کی ضرورت ہوگی۔

سیٹ اپ کے دوران اکاؤنٹ کو کیو آرکوڈ کے ذریعے تصدیق کیا جائے گا اور والدین کو اکاؤنٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں مختلف الرٹس بھی موصول ہوں گے۔

مثال کے طور پر اگر بچہ کسی نئے کانٹیکٹ کو شامل کرے، بلاک کرے یا رپورٹ کرے تو والدین کو فوری اطلاع ملے گی۔

اگر کسی نامعلوم یا مشکوک شخص کی طرف سے پیغام آئے تو اسے الگ فولڈر میں منتقل کیا جا سکتا ہے، جہاں والدین اسے دیکھ کر بلاک یا اجازت دینے کا فیصلہ کر سکیں گے۔

اس کے علاوہ والدین چاہیں تو اضافی نوٹیفکیشنز بھی فعال کر سکتے ہیں، جیسے کہ بچے کی پروفائل تصویر یا نام تبدیل کرنا، کسی نئے چیٹ ریکوئسٹ کا آنا، کسی گروپ میں شامل ہونا یا اسے چھوڑنا۔

یہ تمام سیٹنگز والدین کے مقرر کردہ چھ ہندسوں کے پن کے ذریعے محفوظ ہوں گی۔

کمپنی کے مطابق ان اکاؤنٹس میں کئی فیچرز دستیاب نہیں ہوں گے۔ مثال کے طور پر میٹا کی میٹا اے ائی، چینلز اور اسٹیٹس جیسی سہولیات بچوں کے لیے بند رہیں گی۔

اسی طرح پرائیویٹ چیٹس میں ڈزاپیئرنگ کا آپشن بھی دستیاب نہیں ہوگا۔

واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ اگر کسی نامعلوم نمبر سے بچے کو پیغام موصول ہو تو ایپ اس کے بارے میں اضافی معلومات فراہم کرے گی، جیسے کہ وہ شخص کس ملک سے ہے یا کیا وہ کسی مشترکہ گروپ میں موجود ہے۔

نامعلوم افراد کی تصاویر بھی خودکار طور پر دھندلی دکھائی جائیں گی تاکہ بچے محفوظ رہیں۔

کمپنی کے مطابق جب بچے کی عمر بڑھ جائے گی تو انہیں اطلاع دی جائے گی کہ وہ اپنے اکاؤنٹ کو عام اکاؤنٹ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ تاہم والدین چاہیں تو اس تبدیلی کو مزید 12 ماہ تک مؤخر بھی کر سکیں گے۔

کمپنی نے بتایا کہ اس فیچر کو ابتدائی طور پر چند ممالک میں متعارف کرایا جا رہا ہے اور آئندہ مہینوں میں اسے مرحلہ وار دیگر ممالک میں بھی پھیلا دیا جائے گا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف ممالک میں بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قوانین اور حفاظتی اقدامات پر بحث جاری ہے۔

Related posts

امریکہ نے چین، یورپی یونین اور اہم اتحادیوں کو نشانہ بناتے ہوئے نئی تجارتی تحقیقات کا آغاز کیا، جس سے ٹیرف کے خدشات پیدا ہوئے۔

ہیریسن فورڈ نے 83 سال کی عمر میں اپنے بیڈروم کی حرکات کا انکشاف کیا۔

سینئر اداکار سید عاصم بخاری انتقال کر گئے