حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا


حکومت نے جہازوں میں استعمال ہونے والے فیول (جیٹ فیول) کی قیمت میں 13 فیصد اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد جیٹ فیول 45 روپے 73 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو گیا ہے۔ اضافے کے بعد جیٹ فیول کی نئی قیمت 388 روپے 1 پیسہ فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس اضافے کے بعد ملک بھر میں فضائی سفر کے کرایوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اسی طرح لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں بھی 22 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 67 روپے 42 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 302 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ مٹی کا تیل 39 روپے 20 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد اس کی نئی قیمت 358 روپے 1 پیسہ فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل مٹی کے تیل کی قیمت 318 روپے 81 پیسے فی لیٹر تھی۔

پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی برقرار

وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

حکومت کی سبسڈی

وزارت توانائی کے مطابق حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے 23 ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ رقم 14 مارچ سے 20 مارچ تک کے عرصے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پرائس ڈیفرینشل کلیمز کی مد میں ادا کی جائے گی۔

وزارت توانائی کے مطابق اوگرا (OGRA) اس مقصد کے لیے 23 ارب روپے ادا کرے گا۔

کفایت شعاری فنڈ کا قیام

حکومت نے وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ قائم کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے اس فنڈ میں 27 ارب 10 کروڑ روپے منتقل کرنے کی منظوری دی ہے، جن میں سے 23 ارب روپے اوگرا کو منتقل کیے جائیں گے تاکہ پیٹرولیم سبسڈی کی ادائیگی کی جا سکے۔

Related posts

عالمی تناؤ کے درمیان توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث برطانیہ کے آخری بڑے کیمیکل پلانٹس خطرے میں ہیں۔

ایرک ڈین کی سابقہ ​​خاتون کی محبت اس کی میراث کے بارے میں نایاب تبصرے کرتی ہے۔

بروکلین بیکہم نے مدرز ڈے کے نوٹ پر وکٹوریہ کی تذلیل کرتے ہوئے لکھا