پروجیکٹ سنڈیکیٹ میں شائع ہونے والے ایک حالیہ مضمون میں رگھو رام راجن نے لکھا کہ ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار، بازار میں مسابقت اور حکومتوں کی پالیسیاں یہ طے کریں گی کہ مصنوعی ذہانت کا پھیلاؤ کس طرح اور کتنی تیزی سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن عملی سطح پر مختلف صنعتوں میں اس کے نفاذ میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں نئی ٹیکنالوجی کو پوری طرح رائج ہونے میں دہائیاں لگ گئیں۔ مثال کے طور پر خودکار ٹیلی فون ایکسچینج کا نظام انسانی آپریٹروں کی جگہ لینے میں کئی دہائیوں تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا تھا۔ راجن کے مطابق یہی صورتحال مصنوعی ذہانت کے معاملے میں بھی پیش آ سکتی ہے، کیونکہ مختلف صنعتوں میں اسے اپنانے کے دوران تکنیکی، تنظیمی اور سماجی رکاوٹیں سامنے آتی ہیں۔