سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردارکیاہے کہ ”وائب کوڈنگ “کابڑھتا رجحان آئی ٹی سیکٹرکے لیے نیاسائبرخطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ وائب کوڈنگ“میں صارفین صرف تحریری ہدایات دے کر مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایپلی کیشنز تیارکرتے ہیں، جوپاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے آئی ٹی اور فری لانس سیکٹر کیلیے نئے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ریسرچر اعتزاز محسن کے مطابق جدید”ایجنٹک “اے آئی سسٹمزنہ صرف خود کوڈ لکھ سکتے ہیں، بلکہ اسے تبدیل اور اجرابھی کرسکتے ہیں،جس سے سیکیورٹی کے روایتی خطرات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔
اگر ان پلیٹ فارمز میں خامیاں موجودہوں تو وہ”زیروکلک “حملوں کاذریعہ بن سکتی ہیں،جہاں صارف کی کسی کارروائی کے بغیر ہی سسٹم ہیک ہوسکتاہے۔
پاکستان، جودنیاکی بڑی فری لانس مارکیٹس میں شامل اپ ورک اور فیوور جیسے پلیٹ فارمز پر کام کرنیوالے ڈیولپرز تیزی سے اے آئی کوڈنگ ٹولز اپنارہے ہیں۔
مالی سال 2025-26 کے پہلے نصف میں پاکستانی فری لانسرز نے 500 ملین ڈالرسے زائدزرمبادلہ کمایا،جس میں ان ٹولز نے اہم کرداراداکیا۔
ای سافٹ حب کے شریک بانی ثوبان حنیف کے مطابق وائب کوڈنگ ایک ایسا طریقہ ہے، جس میں صارف عام زبان میں ہدایات دے کر اے آئی سے مکمل ایپلی کیشن تیار کروا سکتا ہے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس عمل میں ”پرومپٹ انجیکشن“ اورنقصاندہ سافٹ ویئرکے خودکار اجرا جیسے خطرات بھی شامل ہیں،جس سے غیرمجاز رسائی ممکن ہوسکتی ہے۔
اعتزاز محسن کا کہنا تھا کہ مسئلہ صرف اے آئی ماڈلز تک محدود نہیں، بلکہ ان پلیٹ فارمزکے بنیادی ڈھانچے میں موجود کمزوریاں بھی بڑاخطرہ ہیں۔
اگر ایک ڈیولپرز کا سسٹم متاثر ہوجائے تووہ بیک وقت کئی بین الاقوامی کلائنٹس کے ڈیٹاکوخطرے میں ڈال سکتاہے، جو ٹیکنالوجی پہلے صرف ریاستی سطح پر استعمال ہوتی تھی، اب عام سطح پر دستیاب ہورہی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں اے آئی سے جڑے نئے خطرات کیلیے مناسب حکمت عملی موجودنہیں،پی ٹی اے کی موجودہ پالیسیوں میں بھی اے آئی ڈویلپمنٹ پلیٹ فارمزکیلیے واضح رہنمااصولوں کافقدان ہے۔
ماہرین نے حکومت اورآئی ٹی اداروں پر زوردیاہے کہ وہ جلد اے آئی سیکیورٹی سے متعلق قوانین اور حفاظتی اقدامات متعارف کروائیں، تاکہ آئی ٹی ایکسپورٹ سیکٹرکوممکنہ نقصانات سے بچایاجاسکے۔