عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے گر گئیں


امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی خبروں نے عالمی توانائی منڈی پر مثبت اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ سپلائی میں خلل کے خدشات کم ہونے کے باعث خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی سطح سے نیچے آگئی ہیں۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے بعد قیمتوں کی صورتحال درج ذیل رہی۔ عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6.5 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 97 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی۔امریکی خام تیل کی قیمت بھی 5.5 فیصد کمی کے ساتھ 87 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔

متحدہ عرب امارات کے ‘مربن کروڈ’ میں سب سے زیادہ غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی۔ یہ تیل جو حالیہ تناؤ کے باعث 148 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو گیا تھا، تیزی سے واپس آتے ہوئے 100 ڈالر 26 سینٹ پر بند ہوا۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی اور کشیدگی کم کرنے کے اشاروں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں اور ایرانی تیل کی عالمی مارکیٹ تک رسائی آسان ہوتی ہے، تو قیمتوں میں مزید استحکام کی توقع ہے۔

Related posts

ہر وہ چیز جو ہم ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلس کے سہاگ رات کے منصوبوں کے بارے میں جانتے ہیں۔

میٹفارمین کا پوشیدہ دماغی راستہ 60 سال بعد بے نقاب ہوا۔

میٹا اور گوگل کی مقدمات میں شکست، 60 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنےکا حکم