واٹس ایپ کی جانب سے پرائیویسی کے حوالے سے ایک انقلابی فیچر متعارف کرانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جس کے بعد صارفین ایک دوسرے سے فون نمبر شیئر کیے بغیر رابطہ کر سکیں گے۔
اب صرف ایک یونیک یوزرنیم کے ذریعے بات چیت ممکن ہوگی، جس سے پرائیویسی بھی بہتر ہوگی اور رابطہ بھی آسان ہوجائے گا۔
میٹا کی ملکیت مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے ’یوزر نیم‘ فیچر پر کام تیز کر دیا ہے۔
اس اپ ڈیٹ کا بنیادی مقصد صارفین کی پرائیویسی کو مزید محفوظ بنانا ہے تاکہ کسی اجنبی سے بات کرنے کے لیے اسے اپنا ذاتی فون نمبر دینے کی ضرورت نہ پڑے۔
واٹس ایپ کے مطابق، صارفین ایک خاص یوزرنیم چنیں گے اور اسے دوسرے لوگوں کے ساتھ شیئر کریں گے۔ یوزر نیم کے انتخاب کے لیے کچھ سخت مگر ضروری قواعد وضع کیے گئے ہیں۔
یوزرنیم ”www“ سے شروع یا ”.com“ یا ”.in“ پر ختم نہیں ہو سکتا تاکہ یہ کسی ویب سائٹ کا لنک نہ لگے۔
یوزر نیم کم از کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 35حروف پر مشتمل ہونا چاہیے۔
یوزر نیم میں حروفِ تہجی (a-z) کے ساتھ ساتھ اعداد (0-9)، فل اسٹاپ اور انڈر اسکور کا استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن صرف نمبرز پر مبنی یوزر نیم کی اجازت نہیں ہوگی۔
اگر آپ کا مطلوبہ یوزر نیم فیس بک یا انسٹاگرام پر پہلے سے کسی اور کے پاس ہے تو آپ کو اپنی ملکیت ثابت کرنی ہوگی، ورنہ آپ کو کوئی دوسرا نام منتخب کرنا پڑے گا۔
پرائیویسی کو ایک قدم آگے لے جاتے ہوئے واٹس ایپ ایک اضافی سیکیورٹی فیچر بھی متعارف کرا رہا ہے جسے ’یوزر نیم کی‘ کا نام دیا گیا ہے۔
یہ 4 ہندسوں کا ایک پن کوڈ ہوگا۔ یہ اختیاری فیچر ہے، جسے صارف اپنی مرضی سے سیٹ کر سکے گا۔
کوئی بھی نیا شخص جب پہلی بار آپ سے یوزر نیم کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کرے گا، تو اسے یہ کوڈ درج کرنا ہوگا، جس سے غیر ضروری پیغامات کا راستہ مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔
صارفین چاہیں تو اپنا یوزرنیم واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک پر ایک جیسا رکھ سکتے ہیں، تاکہ لوگوں کے لیے شناخت اور رابطہ آسان ہو جائے۔
لیکن جو لوگ واٹس ایپ کو الگ رکھنا چاہتے ہیں، وہ مختلف یوزرنیم چن سکتے ہیں۔
یہ فیچر فی الحال آزمائشی مرحلے میں ہے اور واٹس ایپ کے تازہ ترین ورژن پر موجود چند محدود صارفین کو دستیاب ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں اسے تمام صارفین کے لیے مرحلہ وار جاری کر دیا جائے گا۔
اس بڑی تبدیلی کے باوجود واٹس ایپ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام پیغامات بدستور اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ رہیں گے۔