اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ مائیکروسافٹ نے پاکستان میں اپنے 25 سالہ آپریشنز بند کر دیے ہیں، جو جون 2000 میں شروع ہوئے تھے۔ مائیکروسافٹ پاکستان کے پہلے کنٹری منیجر، جواد رحمان نے لنکڈ اِن پر ایک جذباتی پوسٹ میں اسے "ایک دور کا اختتام” قرار دیا، اور بتایا کہ باقی چند ملازمین کو حال ہی میں اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ تاہم پاکستان کی وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام اور دیگر ذرائع اس تاثر کی نفی کرتے ہیں کہ کمپنی نے ملک سے مکمل انخلا کر لیا ہے۔ وزارت نے 4 جولائی کو جاری ایک بیان میں وضاحت کی کہ یہ فیصلہ مائیکروسافٹ کی عالمی تنظیمِ نو کا حصہ ہے، وہ پاکستان نہیں چھوڑ رہے۔
ویب سائٹ اردو نیوز کے مطابق مائیکروسافٹ کے ترجمان نے اس تبدیلی کو "کاروباری جائزے اور اصلاح” کا نتیجہ قرار دیا، جس کے تحت کمپنی پاکستان میں اپنا ماڈل بدل رہی ہے۔ اب خدمات علاقائی دفاتر (جیسے دبئی یا آئرلینڈ) اور مقامی شراکت داروں کے ذریعے جاری رکھی جائیں گی، جیسا کہ مائیکروسافٹ دنیا کے کئی دیگر ممالک میں پہلے ہی کر رہی ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے سے صارفین کے معاہدوں یا خدمات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
وزارت آئی ٹی کے مطابق مائیکروسافٹ پچھلے کچھ سالوں سے اپنی کمرشل مینجمنٹ یورپ کے آئرش مرکز میں منتقل کر چکی ہے اور پاکستان میں اس کی موجودگی پہلے ہی محدود تھی۔ کمپنی اب پارٹنر پر مبنی اور کلاؤڈ پر مبنی ماڈل کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جو موجودہ عالمی رجحان کا حصہ ہے۔
پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کے محمد راحیل کے مطابق مائیکروسافٹ کا پاکستانی عملہ ہمیشہ محدود رہا ہے، یہ تقریباً پانچ افراد پر مشتمل تھا جن کا کام انٹرپرائز، تعلیم اور سرکاری شعبے کے ساتھ رابطہ کاری پر مشتمل تھا۔ زیادہ تر خدمات پہلے ہی مقامی شراکت داروں، جیسے سسٹمز لمیٹڈ، کے ذریعے فراہم کی جاتی تھیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مائیکروسافٹ کی عالمی حکمت عملی اب کلاؤڈ بیسڈ سروسز (جیسے Azure اور Microsoft 365) اور پارٹنر نیٹ ورک پر مرکوز ہے، جس کے باعث چھوٹے مقامی دفاتر کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔
