سفید فام افراد مہلک ڈائریا کے جراثیم کے خطرے سے زیادہ متاثر


ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سفید فام افراد مہلک ڈائریا کے جراثیم کے خطرے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

اس نئی تحقیق کے مطابق ایک خطرناک بیکٹیریا سے ہونے والا انفیکشن جو مہلک اسہال کا باعث بنتا ہے اور یہ سفید فام مریضوں کے لیے سیاہ فام یا ہسپانوی نسل کے افراد کی نسبت زیادہ خطرناک اور جان لیوا ہوتا ہے۔

محققین نے اتوار کو امریکا کے شہر اٹلانٹا میں آئی ڈی ویک کے موقع پر یہ اپنی رپورٹ پیش کی۔ محققین کے مطابق تقریباً 84 فیصد اموات کلوسٹریڈیائیڈز ڈیفیسائل کے انفیکشنز کی وجہ سے ہوتی ہیں اور یہ سفید فام لوگوں میں زیادہ ہوتی ہیں۔ 

آئی ڈی ویک امریکا کی اعلیٰ متعدی امراض کی پیشہ ور انجمنوں کا مشترکہ سالانہ اجلاس ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق سیاہ فام مریضوں میں اموات کا یہ تناسب 8 فیصد ہے جبکہ ہسپانوی نسل کے مریضوں میں یہ شرح 6 فیصد سے بھی کم ہے۔

محققین نے کہا کہ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کلوسٹریڈیائیڈز ڈیفیسائل انفیکشنز شہری علاقوں  میں رہنے والوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے اور اس سے ہونیوالی  84 فیصد اموات میٹروپولیٹن علاقوں میں ہوتی ہیں۔



Related posts

پینٹاگون میمو لیک ہونے کے بعد ارجنٹائن نے برطانیہ سے بات چیت پر زور دیا ہے جس سے امریکی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔

امریکی سزائے موت کے قوانین کو وسیع کر دیا گیا ہے کیونکہ محکمہ انصاف فائرنگ اسکواڈ کو گیس، بجلی کے کرنٹ کی اجازت دیتا ہے۔

اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے کینیڈا میں بڑے پیمانے پر شوٹنگ سے پہلے حکام کو آگاہ کرنے میں ناکامی کے بعد معذرت کی۔