معروف عالمی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ میں شائع ہونے والے ایک تفصیلی مضمون کے مطابق پاکستان اپنی مائننگ پالیسیوں میں وسیع اصلاحات کے ذریعے کھربوں ڈالر مالیت کے غیر استعمال شدہ معدنی وسائل کو اسٹریٹجک معاشی ترقی کی بنیاد بنانے کی جانب گامزن ہے۔
مضمون میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے پاس کاپر، گولڈ، لیتھیم، کوبالٹ، نایاب زمینی عناصر اور قیمتی پتھروں سمیت وسیع معدنی ذخائر موجود ہیں، تاہم ماضی میں یہ شعبہ عالمی معیار کے مطابق ترقی نہ کر سکا۔
اب حکومت شفافیت، پالیسی اصلاحات اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کو عالمی معدنی منڈی میں ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 (PMIF26)، جو اپریل میں منعقد ہوگا، کا مقصد پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے تیار مائننگ معیشت کے طور پر عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنا ہے۔
دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق فورم کے ذریعے عالمی کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور ٹیکنالوجی شراکت داروں کو متوجہ کیا جا رہا ہے۔
مضمون میں ریکوڈک منصوبے کو خاص اہمیت دی گئی ہے، جو دنیا کے بڑے کاپر اور گولڈ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے اور جہاں 5.9 ارب ٹن معدنی ذخائر موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ اربوں ڈالر کی آمدن اور ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسی طرح پاکستان کے قیمتی پتھروں کی مجموعی مالیت تقریباً 450 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، تاہم سالانہ برآمدات صرف 5.8 ملین ڈالر ہیں، جو اس شعبے میں بڑے پوٹینشل کی نشاندہی کرتی ہیں۔
حکومت نے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے پہلی قومی جیم اسٹون پالیسی متعارف کرا دی ہے، جس میں جدید سرٹیفیکیشن، ویلیو ایڈیشن اور نوجوانوں کی کاروباری شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔
پالیسی کے تحت پانچ سال میں جیم اسٹون برآمدات 1 بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق پاکستان لیتھیم، کوبالٹ اور نایاب زمینی عناصر کی عالمی سپلائی چین کا حصہ بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
معدنی شعبے میں اصلاحات سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر، صنعتی ترقی اور مقامی سطح پر معاشی بہتری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معدنی اور جیم اسٹون سیکٹر کی جامع ترقی سے اگلے دس سال میں سالانہ 5 سے 7 بلین ڈالر تک جی ڈی پی میں اضافہ اور ہزاروں براہِ راست و بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
مضمون کے مطابق پاکستان کی موجودہ حکمتِ عملی اس امر کی عکاس ہے کہ ملک محض خام معدنیات برآمد کرنے کے بجائے ویلیو ایڈڈ، شفاف اور پائیدار مائننگ کے ذریعے عالمی معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
