پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس نوید قمر کی سربراہی میں شروع، کمیٹی ممبران نے متفقہ طور پر نوید قمر کو اجلاس کی صدارت کے لیے تجویز کیا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں آج وزارت پیٹرولیم کے 20 ارب روپے زائد کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔
عوام کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے جانے کے انکشاف پر آڈٹ حکم نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی وصول نہ کرنے کی ایک لمبی فہرست ہے۔
ڈی جی آئل کی جانب سے پیٹرولیم لیوی وصول کرنے کے طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ انفورسمنٹ میکانزم موجود نہیں ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے یعنی جو دے اس کا بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا، اتنے اہم سیکٹر میں ٹیکسیشن کا نظام کیسے چلایا جا رہا ہے؟
شازیہ مری نے کہا کہ اتنی بڑی رقم عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل کی جاتی ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی رقم عوام سے حاصل کر کے حکومت کو ادائیگی نہیں کی جاتی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کو قانون سازی میں بہتری کی سفارش کر دی۔
اجلاس کے دوران، سنرجی کو اور حیسکول کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور جرمانے کی مد میں 14 ارب 63 کروڑ روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی کا انکشاف بھی ہوا۔
چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ یہ تو بہت پرانا کیس ہے، اب تک کتنی ریکوری کی گئی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ اب تک صرف 19 کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں۔
