ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے استعمال کے ساتھ سائبر جرائم کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ دہلی میں پیش آنے والے ایک حالیہ واقعے میں ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ محض واٹس ایپ پر موصول ہونے والی فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد مالی نقصان کا شکار ہو گئیں۔
متاثرہ خاتون کو ایک شخص کی جانب سے کال موصول ہوئی جس نے خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے کریڈٹ کارڈ کی حد بڑھانے کی پیشکش کی۔ اعتماد قائم کرنے کے لیے پیشہ ورانہ انداز اپنایا گیا اور بعد ازاں واٹس ایپ پر ایک فائل بھیجی گئی، جسے بینک کی اپڈیٹ شدہ ایپ قرار دیا گیا۔
جیسے ہی خاتون نے فائل انسٹال کی، چند ہی منٹوں میں ان کے کریڈٹ کارڈ سے تقریباً 76 ہزار روپے کی آن لائن خریداری کر لی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ ایک منظم سائبر گروہ کی کارروائی تھی۔ اطلاعات کے مطابق گروہ کے بعض افراد ماضی میں ایک کریڈٹ کارڈ کمپنی سے وابستہ رہے تھے، جس کے باعث انہیں صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل تھی۔ اسی معلومات کی بنیاد پر ایک جعلی موبائل ایپ تیار کی گئی جو دراصل نقصان دہ اے پی کے فائل تھی۔
ملزمان جعلی سم کارڈز کے ذریعے متاثرین سے رابطہ کرتے، خود کو بینک اہلکار ظاہر کرتے اور “کارڈ اپ گریڈ” یا “لمٹ بڑھانے” کے نام پر فائل انسٹال کرواتے۔ فائل انسٹال ہوتے ہی موبائل فون کا کنٹرول ہیکرز کے پاس چلا جاتا، جس کے بعد وہ کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات استعمال کرتے ہوئے مہنگی اشیاء آن لائن خرید لیتے۔
اس کیس میں مبینہ طور پر الیکٹرانک سامان آن لائن ایپ کے ذریعے منگوایا گیا، جسے فرید آباد میں ڈیلیور کرایا گیا اور بعد ازاں آن لائن مارکیٹ پلیٹ فارمز پر فروخت کر دیا گیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر 4 فروری کو ایف آئی آر درج کی گئی، جس کے بعد سائبر پولیس نے تکنیکی بنیادوں پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ ڈیجیٹل ٹریکنگ اور لوکیشن ڈیٹا کی مدد سے سامان کی ترسیل کا سراغ لگایا گیا، جس کے نتیجے میں چار افراد کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے چار موبائل فون برآمد کیے گئے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔
ماہرین نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ نامعلوم نمبروں سے موصول ہونے والی فائلیں یا لنکس ڈاؤن لوڈ نہ کریں، کسی کے ساتھ او ٹی پی یا کارڈ کی معلومات شیئر نہ کریں، اور یاد رکھیں کہ بینک واٹس ایپ کے ذریعے ایپ یا لنک بھیج کر معلومات طلب نہیں کرتے۔
