پاکستان نے آئی ٹی یو ریگولیٹری بینچ مارک 2025 میں G5 ریگولیٹر کا درجہ برقرار رکھا ہے۔ پاکستان کا مجموعی اسکور75.77 ہے جو ریگولیٹری اصلاحات میں نمایاں پیشرفت ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق 2021 میں 58.64 سے 2025 میں اسکور بڑھ کر 75.77 ہو گیا ہے ساتھ ہی اسپیکٹرم مینجمنٹ، مسابقتی فریم ورک اور ڈیجیٹل پالیسی میں بہتری بھی آئی ہے۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ پاکستان “ایڈوانسڈ” ریگولیٹری میچورٹی رینج میں شامل رہا، پاکستان کی عالمی ٹیلی کام فورمز میں ساکھ مزید مضبوط ہوئی، ریگولیٹری اصلاحات اور ڈیجیٹل الائنمنٹ کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا۔
پی ٹی اے نے کہا کہ پاکستان لیڈنگ ٹیئر کی جانب تیزی سے گامزن ہے اور ٹیلی کام ریگولیٹری کارکردگی میں مسلسل بہتری کا اعتراف کیا گیا، ڈیجیٹل پالیسی اور ٹیلی کام ریفارمز کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ لائسنس ٹیمپلیٹ اور آپریشنل شرائط میں درج ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں ، پریمیم سروسز کے لیے اپ لنک (Uplink) اسپیڈ کو ڈاؤن لنک اسپیڈ کے 25 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہنا ہے کہ فائیو جی کے لیے کم سے کم ڈاؤن لنک اسپیڈ 50 Mbps مقرر کی گئی ہے، جبکہ فور جی (4G) کے صارفین کے لیے معیار کو 4 Mbps سے بڑھا کر 20 Mbps کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔
کامیاب کمپنیوں کو ہر سال کم از کم 1,000 نئی سائٹس لگانے کی پابندی ہوگی، جس میں سے 20 فیصد سائٹس بالکل نئے مقامات پر لگانا لازمی ہوگا۔
دلچسپی رکھنے والی کمپنیاں اپنی درخواستیں اور پری بڈ ڈپازٹ 27 فروری تک جمع کروا سکیں گی اور فائیو جی اسپیکٹرم کی باضابطہ نیلامی 10 مارچ 2026 کو ہوگی۔
حکومت نے 700، 1800، 2100، 2300، 2600 اور 3500 میگا ہرٹز بینڈز میں مجموعی طور پر تقریباً 597 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں فائیو جی سروسز وفاقی دارالحکومت اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں شروع کی جائیں گی۔
