مصنوعی ذہانت (اے آئی) آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، چاہے تعلیم ہو، صحت، تحقیق یا روزمرہ کے چھوٹے کام۔
لیکن حالیہ رپورٹس میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجی بہت آسانی سے دھوکہ کھا کر جھوٹی معلومات پھیلا سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ایک صحافی نے ایک سادہ خامی ظاہر کی، جس سے معلوم ہوا کہ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس آسانی سے جعلی معلومات دہرا سکتے ہیں۔
یہ خامی چیٹ جی پی ٹی، گوگل جیمینائی اور اے آئی اوورویوز جیسے پلیٹ فارمز کو متاثر کرتی ہے۔
صحافی نے ایک جعلی بلاگ پوسٹ شائع کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ دنیا کے بہترین ہاٹ ڈاگ کھانے والے ٹیک رپورٹر ہیں۔ حقیقت میں ایسا واقعہ کبھی ہوا ہی نہیں، لیکن اے آئی نے اسے حقیقت کے طور پر دہرا دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ خامی صحت، مالیات اور کاروباری سرچز پر بھی غلط اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ صارفین اکثر اصل ذرائع پر کلک نہیں کرتے، جس سے اندھے اعتماد کے بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
ٹیک ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی پروڈکٹ یا مواد کو اوّل نمبر پر رکھنے والا بلاگ تیار کر سکتا ہے، اور اے آئی اسے بغیر جانچ پڑتال کے دہرا سکتا ہے۔
ایک حالیہ مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ جب اے آئی اوورویوز ظاہر ہوتے ہیں، تو صارفین اکثر اصل ذرائع کی تصدیق نہیں کرتے۔ اس سے اندھے اعتماد کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
