نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کا کمزور پاور ٹرانسمیشن نظام صارفین کے لیے بجلی مہنگی کر رہا ہے۔
مالی سال 2024-25 کی ٹرانسمیشن پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹ میں نیپرا نے نشاندہی کی کہ اوورلوڈ گرڈ اسٹیشنز، تاخیر کا شکار منصوبے اور اداروں کے درمیان ناقص رابطہ کاری ملک کو مہنگی بجلی پیدا کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے درمیان کمزور روابط سستی قومی بجلی کی کراچی تک فراہمی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
اکنامک میرٹ آرڈر متاثر
ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ قومی گرڈ کی کمزوریاں اکنامک میرٹ آرڈر کے اصول کو متاثر کر رہی ہیں، جس کے تحت پہلے سستی بجلی کو سسٹم میں شامل کیا جانا چاہیے۔
تاہم موجودہ صورتحال میں مہنگے پاور پلانٹس چلانے پڑ رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر گھریلو اور صنعتی صارفین کے بجلی کے بلوں پر پڑ رہا ہے۔
اوورلوڈ گرڈ اسٹیشنز کا خطرہ
نیپرا نے بتایا کہ متعدد گرڈ اسٹیشنز اور پاور ٹرانسفارمرز اپنی گنجائش کے 80 فیصد سے زائد بوجھ پر چل رہے ہیں۔ اس سے وولٹیج میں عدم استحکام، آلات کو نقصان اور ممکنہ بریک ڈاؤن کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کو فوری طور پر اپ گریڈ نہ کیا گیا تو بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور سسٹم فیلئر کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
