Table of Contents
سائنسدانوں نے ٹھنڈک پیدا کرنے کا ایک بالکل نیا طریقہ دریافت کیا ہے جو مستقبل میں موجودہ ریفریجریشن سسٹمز، جیسے ریفریجریٹر اور ایئر کنڈیشنرز، کی جگہ لے سکتا ہے۔
موجودہ نظام ماحول کے لیے نقصان دہ
آج کل ریفریجریٹرز اور ایئر کنڈیشنرز میں استعمال ہونے والی گیسیں ماحول کے لیے نقصان دہ سمجھی جاتی ہیں کیونکہ یہ گلوبل وارمنگ میں اضافہ کرتی ہیں۔
اسی وجہ سے کگالی معاہدہ کے تحت دنیا کے ممالک نے آئندہ 25 سالوں میں ان گیسوں کے استعمال میں تقریباً 80 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔
نئی کولنگ ٹیکنالوجی کیا ہے؟
لارنس برکلے نیشنل لیبارٹری اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے محققین نے آئونوکالورک کولنگ نامی نئی تکنیک تیار کی ہے۔
یہ نظام اس اصول پر کام کرتا ہے کہ جب کوئی مادہ اپنی حالت تبدیل کرتا ہے تو وہ حرارت جذب یا خارج کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب برف پگھل کر پانی بنتی ہے تو وہ اپنے اردگرد سے حرارت جذب کرتی ہے۔
یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟
اس ٹیکنالوجی میں نمک کے ذرات (آئنز) استعمال کیے جاتے ہیں جو کسی مادے کو بغیر گرم کیے اس کی حالت تبدیل کر دیتے ہیں، جس سے ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے۔
محققین نے آئوڈین اور سوڈیم سے تیار کردہ نمک کے ذریعے ایتھیلین کاربونیٹ نامی مادے کو پگھلایا۔
صرف ایک وولٹ سے بھی کم برقی چارج دینے سے درجہ حرارت میں تقریباً 25 ڈگری سیلسیس کمی حاصل کی گئی، جو دیگر کولنگ ٹیکنالوجیز سے زیادہ مؤثر سمجھی جا رہی ہے۔
اس نظام کی خاص خصوصیات
اس نئی ٹیکنالوجی کے تین بڑے فائدے بتائے جا رہے ہیں:
محقق ڈریو للی کے مطابق اب تک ایسا مؤثر متبادل دستیاب نہیں تھا جو محفوظ بھی ہو اور ماحول کو نقصان بھی نہ پہنچائے، جبکہ آئونوکالورک سائیکل میں یہ تمام خصوصیات موجود ہیں۔
مستقبل میں کیا ممکن ہے؟
محققین اب مختلف نمکوں کے امتزاج پر تجربات کر رہے ہیں تاکہ اس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
سائنسدان راوی پرشاد کے مطابق اب اس ٹیکنالوجی کو لیبارٹری سے نکال کر عملی اور تجارتی استعمال کے قابل بنانے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ نظام نہ صرف ٹھنڈک بلکہ حرارت پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
