Table of Contents
محققین نے ایک نئی اوپن سورس ٹیکنالوجی رو ویو متعارف کرائی ہے جو عام وائی فائی روٹر کو ایسے نظام میں تبدیل کر دیتی ہے جو بغیر کسی کیمرے کے انسانی جسم کی حرکت، وضع قطع اور اہم علامات کا اندازہ لگا سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی Carnegie Mellon University کے محققین نے تیار کی ہے اور اسے ایک بغیر آلات کے محسوس کرنے والا نظام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟
اس ٹیکنالوجی میں کمرے کے اندر 4 سے 6 چھوٹے اور سستے وائی فائی چِپس لگائے جاتے ہیں جو ایک غیر مرئی ریڈیو سگنل نیٹ ورک بناتے ہیں۔
یہ نظام:
-
انسانی جسم سے منعکس ہونے والی ریڈیو لہروں کو ریکارڈ کرتا ہے
-
ہر سیکنڈ میں تقریباً 54 ہزار بار سگنلز میں تبدیلی کو نوٹ کرتا ہے
-
جسم کے 17 اہم نقاط جیسے سر، کہنی اور گھٹنے کی پوزیشن معلوم کر سکتا ہے
اس طرح کمپیوٹر انسانی جسم کا تین جہتی ڈیجیٹل خاکہ تیار کر لیتا ہے۔
ممکنہ استعمال
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے، مثلاً:
-
صحت اور مریضوں کی نگرانی
-
اسمارٹ ہوم سسٹمز
-
سیکیورٹی اور حرکت کی شناخت
پرائیویسی کے خدشات
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صارفین کی پرائیویسی کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے کیونکہ کیمروں کے برعکس یہ نظام نظر نہیں آتا۔
اگر اسے غلط طریقے سے استعمال کیا جائے تو:
-
کسی شخص کی موجودگی اور حرکت کو بغیر اجازت مانیٹر کیا جا سکتا ہے
-
موجودہ قوانین اس قسم کی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کرتے
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب مواصلاتی آلات نگرانی کے آلے بن جائیں تو پرائیویسی قوانین اور صارف کے تحفظ کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہو جاتی ہیں۔
