گوگل میپس میں ایک نیا اے آئی فیچر ”آسک میپس“ متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے ذریعے صارفین اب عام سرچ کے بجائے سیدھے سوال پوچھ کر اپنی مطلوبہ جگہ تلاش کر سکیں گے۔ یہ اپ ڈیٹ گزشتہ دس برس سے زیادہ عرصے میں گوگل میپس کی سب سے بڑی اپ گریڈ ہے۔
آسک میپس ایک اے آئی پر مبنی ٹول ہے جس کے ذریعے صارفین عام تلاش کے بجائے پیچیدہ اور حقیقی زندگی سے متعلق سوالات بھی پوچھ سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر صارف یہ پوچھ سکتا ہے کہ ایسی ٹینس کورٹ کہاں ہے جہاں رات کے وقت لائٹس موجود ہوں، یا ایسا ہیئر سیلون کہاں ہے جو گھنگریالے بالوں کے لیے خاص خدمات فراہم کرتا ہو۔
یہ فیچر صارف کو جواب دینے کے لیے مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرتا ہے جن میں صارف کے پچھلے سرچ ریکارڈ، سرگرمیاں، ویب سائٹس، تصاویر اور لوگوں کے تبصرے شامل ہوتے ہیں۔
گوگل کے مطابق اس سسٹم کو دنیا بھر میں موجود تقریباً 30 کروڑ مقامات اور 50 کروڑ صارفین کے ریویوز سے معلومات حاصل ہوتی ہیں، جس سے نتائج زیادہ درست اور ذاتی نوعیت کے ہو جاتے ہیں۔
گوگل میپس کی وائس پریزیڈینٹ مریم ڈینیئل نے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی اس پلیٹ فارم کے لیے ایک اہم قدم ہے اور اب میپس ہر صارف کے لیے الگ انداز میں کام کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ لوگ جب حقیقی دنیا میں کہیں جانا چاہتے ہیں تو میپس استعمال کرتے ہیں، اور اب یہ سروس منصوبوں کو فوری طور پر عملی شکل دینے میں مدد دے گی۔
نئے فیچر کے ذریعے مسافر مقامی مقامات، مشہور جگہوں اور ریستوران کے بارے میں بھی آسانی سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی شہر میں مشہور مقامات تلاش کرے تو گوگل میپس تصاویر، درجہ بندی، ریویوز اور دیگر تفصیلات کے ساتھ نتائج دکھا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی معلوم کیا جا سکے گا کہ کسی ریستوران میں کھانا ساتھ لے جانے کی سہولت موجود ہے یا نہیں، اور وہاں کتنا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
اپ ڈیٹ میں ڈرائیونگ ڈائریکشنز کے ڈیزائن میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب نقشے میں بعض عمارتوں کو شفاف انداز میں دکھایا جائے گا تاکہ ڈرائیور آگے آنے والے موڑ اور راستے کو بہتر طور پر دیکھ سکے۔
مریم ڈینیئل کے مطابق شفاف عمارتوں کی مدد سے ڈرائیور موڑ سے پہلے ہی اندازہ لگا سکیں گے کہ آگے کیا آ رہا ہے اور انہیں کس سمت جانا ہے۔
گوگل کے مطابق یہ نئی خصوصیات جمعرات سے موبائل ایپ میں مرحلہ وار متعارف کرائی جا رہی ہیں جبکہ جلد ہی ان اے آئی فیچرز کو ایپل کار پلے میں بھی شامل کیا جائے گا۔
کمپنی نے بتایا ہے کہ گاڑیوں کے نظام کے ساتھ مکمل انضمام کے وقت کا تعین ابھی جاری ہے تاہم آئندہ چند ہفتوں میں مزید صارفین تک ”آسک میپس“ اور دیگر اے آئی ٹولز مہیا کر دیے جائیں گے۔
