لاہور (ویب ڈیسک )پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 5G اسپیکٹرم کی نیلامی مکمل کرنے کے بعد اب لائسنس جاری کرنے کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ لائسنس اگلے چند دنوں میں جاری کیے جا سکتے ہیں، جس سے ٹیلی کام آپریٹرز کو 5G سروسز شروع کرنے کی اجازت مل جائے گی۔
وی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے 5G اسپیکٹرم کی تاریخی نیلامی مکمل کرتے ہوئے 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم فروخت کیا ہے، جس سے حکومت کو تقریباً 507 ملین ڈالر (تقریباً 142 ارب روپے) کا ریونیو حاصل ہوا۔ جیز نے 190 میگا ہرٹز، یوفون نے 180 میگا ہرٹز اور زونگ نے 110 میگا ہرٹز حاصل کیا۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق فائیو جی لائسنس پہلے ہی تیار کر لیے گئے ہیں اور ٹیلی کام کمپنیوں کو لائسنس کے حصول کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
پی ٹی اے کی جانب سے اس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ تینوں ٹیلی کام کمپنیوں کو بیک وقت فائیو جی لائسنس جاری کیے جائیں۔ واضح رہے کہ تینوں کمپنیاں فائیو جی سروس کے فوری آغاز کے لیے تیار ہیں۔ اگر کسی کمپنی نے رول آؤٹ میں تاخیر کی یا منصوبے میں کمی کی تو پی ٹی اے اس گارنٹی کا متعلقہ حصہ ضبط کر سکتی ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل لائسنسنگ عامر شہزاد نے بتایا کہ ایک کمپنی نے پہلے ہی یہ بینک گارنٹی جمع کرا دی ہے۔ دوسری کمپنی کی گارنٹی آج تک موصول ہونے کی توقع ہے جبکہ یوفون بدھ تک یہ رقم جمع کر دے گا۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی تینوں کمپنیوں (جیز، زونگ اور یوفون) کی گارنٹیز موصول ہو جائیں گی، جمعرات کو ان کے تمام تقاضوں کی توثیق کر لی جائے گی۔
عامر شہزاد کا مزید کہنا تھا کہ تقاضے مکمل ہوتے ہی اگلے ہی دن 5G لائسنس جاری کر دیے جائیں گے۔ پی ٹی اے کا ہدف ہے کہ عید الفطر سے پہلے ملک میں 5G سروسز کا باقاعدہ آغاز ممکن بنایا جائے۔ اس سلسلے میں پی ٹی اے ہیڈکوارٹر میں لائسنس اجرا کی ایک تقریب منعقد کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اقدامات پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کی طرف ایک اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں۔ 5G کی آمد سے انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہو گا، جس سے کاروبار، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں نئی ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔
پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ تینوں بڑے آپریٹرز 5G سروسز کے فوری آغاز کے لیے تیار ہیں اور لائسنس ملنے کے بعد پائلٹ پروجیکٹس جلد شروع کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ پی ٹی اے کا ہدف ہے کہ لائسنس جاری ہونے کے فوراً بعد پائلٹ پروجیکٹس اگلے ہفتے سے بڑے شہروں یعنی اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں شروع کیے جائیں۔
مکمل کمرشل رول آؤٹ 4 سے 6 ماہ میں ممکن ہے، یعنی جولائی تا ستمبر 2026 تک ملک کے بیشتر علاقوں میں 5G سروسز دستیاب ہو جائیں گی۔ ابتدائی طور پر ڈاؤن لوڈ سپیڈ 50 سے 100 ایم بی پی ایس تک ہو گی جو آہستہ آہستہ بڑھائی جائے گی۔
5G کی آمد سے انٹرنیٹ کی رفتار میں 4G کے مقابلے میں 5 سے 25 گنا اضافہ متوقع ہے، جس سے کاروبار، آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن، اسمارٹ سٹیز، مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلیکیشنز اور صنعتی آٹومیشن میں نئی ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنانے کا اہم قدم ہے۔
