طبیعات دانوں نے پہلی بار دیکھا ہے کہ روشنی میں موجود ’’سوراخ‘‘ خود روشنی سے بھی تیزی سے سفر کرسکتے ہیں۔ انہیں ’’فیز سنگولیرٹیز‘‘ یا ’’آپٹیکل وورٹائسز‘‘ کہا جاتا ہے۔
1970 کی دہائی سے سائنسدان یہ پیش گوئی کررہے تھے کہ جس طرح دریا میں بننے والا بھنور اپنے اردگرد بہنے والے پانی سے زیادہ تیزی سے حرکت کرسکتا ہے۔
اسی طرح روشنی کی لہروں میں بننے والے بھنور بھی خود روشنی سے آگے نکل سکتے ہیں۔
یہ دریافت آئن سٹائن کی تھیوری کی خلاف ورزی نہیں کرتی جس کے مطابق کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے تیز نہیں جاسکتی۔
وجہ یہ ہے کہ یہ بھنور نہ تو کمیت رکھتے ہیں، نہ توانائی اور نہ ہی کوئی معلومات لے جاتے ہیں۔ ان کی حرکت خلا میں جسمانی سفر نہیں بلکہ لہر کے نمونے کی جیومیٹری میں تبدیلی ہے۔
کیسے دیکھا گیا یہ نظارہ؟
یہ واقعہ بہت چھوٹے پیمانے پر ہوتا ہے اس لیے اسے پکڑنا مشکل تھا۔ اب سائنسدانوں نے ایک خاص الیکٹران مائیکرواسکوپ کا استعمال کیا جو 3 کوڈریلیونویں سیکنڈ میں واقعات ریکارڈ کرسکتا ہے۔
انہوں نے ایک دو جہتی مادے (ہیکساگونل بوران نائٹرائڈ) پر روشنی ڈالی جہاں روشنی کی عجیب لہریں بنتی ہیں جو عام روشنی سے آہستہ ہوتی ہیں جب کہ اس سے بہت سے بھنور بنے۔
محققین نے سیکڑوں تصاویر لے کر ان کا ایک ٹائم لیپس بنایا جس میں دیکھا گیا کہ دو بھنور ایک دوسرے کی طرف بڑھتے ہیں اور ٹکراتے ہیں۔ ٹکرانے سے ٹھیک پہلے ان کی رفتار عارضی طور پر روشنی کی رفتار سے بھی تیز ہوجاتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت لہروں کی عالمی طبیعیات کو سمجھنے میں مدد دے گی۔ اس سے الیکٹران مائیکرواسکوپی کی حدود بھی دور ہوں گی اور طبیعیات، کیمیا اور حیاتیات کے پوشیدہ عمل کا مطالعہ ممکن ہوسکے گا۔
