چاند تک پہنچنے کی دوڑ میں ایلون مسک اور جیف بیزوس ناسا سے بڑے معاہدوں کے لیے آمنے سامنے آ گئے۔ دنیا میں امریکا، روس اور چین کے درمیان خلائی دوڑ تیز ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی ارب پتی ایلون مسک اور جیف بیزوس بھی اس جنگ میں شامل ہو گئے۔
جہاں دونوں ناسا کے منافع بخش معاہدے حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے اسپیس ایکس اور بلیو اوریجن سے چاند پر لینڈر تیار کرنے کے معاہدے کیے ہیں، کیونکہ ادارہ 2030ء تک انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
آرٹیمس پروگرام کے تحت آرٹیمس 3 مشن کے لیے لینڈر کی تیاری نے دونوں کمپنیوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
تاہم ناسا نے آرٹیمس مشن کے شیڈول میں تبدیلی کا اعلان بھی کیا ہے، جس کے مطابق آرٹیمس 3 اب چاند پر لینڈنگ کے بجائے لو ارتھ آربٹ میں لینڈنگ ٹیکنالوجی کی آزمائش کرے گا جبکہ آرٹیمس 4 جس کی پرواز 2028ء میں متوقع ہے، انسانوں کو چاند تک لے کر جائے گا۔
ابتدائی طور پر اسپیس ایکس کو اسٹار شپ ہیومن لینڈنگ سسٹم تیار کرنے کا کنٹریکٹ دیا گیا تھا، تاہم تاخیر اور ادارے میں تبدیلیوں کے بعد ناسا نے دیگر کمپنیوں کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی۔
اب بلیو اوریجن بھی اس دوڑ میں شامل ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں کمپنیوں کے لینڈرز آرٹیمس 3 مشن میں استعمال ہو سکتے ہیں، جہاں اورین کیپسول کے ساتھ ڈاکنگ کی مشق کی جائے گی۔
معاہدے کے مطابق جو کمپنی 2027ء تک مکمل طور پر تیار لینڈر فراہم کرے گی، اسے حتمی برتری حاصل ہو گی۔
اسپیس ایکس کو 2.89 ارب ڈالرز کا کنٹریکٹ دیا گیا ہے، جبکہ بلیو اوریجن کو 3.4 ارب ڈالرز کی لاگت سے اپولو طرز کا لینڈر تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کون سی کمپنی دوبارہ انسان کو چاند تک پہنچانے میں کامیاب ہوتی ہے۔
