دنیا بھر میں کوئلے کو جلا کر بجلی پیدا کی جاتی ہے مگر اس عمل سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوتا ہے۔
کوئلے سے بجلی کے حصول کی لاگت کم ہوتی ہے تو اس کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔
مگر چین میں سائنسدانوں نے کوئلے سے بجلی کے ماحول دوست ذریعے کو ممکن بنایا ہے۔
انہوں نے ایسی بیٹری جیسی ڈیوائس تیار کی ہے جس میں کوئلے کو جلانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کا سسٹم کوئلے کی کیمیائی توانائی کو بجلی میں تبدیل کر دیتا ہے اس طرح کابن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج نہیں ہوتا۔
شینزن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس بیٹری کی تیاری میں کامیابی حاصل کی اور اسے کوئلے کے فیول سیل کا نام دیا گیا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ کانسیپٹ بیٹری مؤثر انداز سے کوئلے کو برقی کیمیکل توانائی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتی ہے اور اسے جلاتی نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس سسٹم میں کوئلہ کثیر الجہتی عمل سے گزرتا ہے جس کے بعد بجلی پیدا ہوتی ہے۔
سیل کے اندر کوئلے کے ذرات پیچیدہ عمل سے گزر کر بجلی پیدا کرتے ہیں اور روایتی طریقے سے بجلی پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ اس سسٹم میں توانائی ضائع بھی نہیں ہوتی جو کوئلے کو جلانے کے عمل کے دوران ضائع ہوتی ہے۔
ابھی یہ کانسیپٹ سسٹم ہے اور اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
