صرف پڑھنا کافی نہیںاے آئی کیساتھ عملی کام سیکھنا ہی کامیابی کی کنجی ہے: بلال بن ثاقب



اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں صرف تعلیم حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ساتھ عملی کام سیکھنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

’’جنگ ‘‘ کے مطابق بلال بن ثاقب نے اےآئی کے حوالے سے فری لانسرز اور نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں صرف پڑھنا کافی نہیں، اے آئی کے ساتھ کام بنا کر سیکھنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔اے آئی ایجنٹس کی مدد سے ایک ورک ماڈل تیار کر دیا ہے، اے آئی کی خود کار عملدرآمد، کام کرنے کا انداز تیزی سے بدل رہا ہے، اے آئی ایجنٹس کی ٹیم سی ای او، انجینئر اور ڈیزائنر پر مشتمل ہے۔

بلال بن ثاقب نے مزید کہا کہ اے آئی ورکنگ ماڈل میں فیصلوں کی منظوری انسان کے ہاتھوں میں رہے گی۔



Related posts

جیف بیزوس نے واقعی میٹ گالا پر کتنا خرچ کیا؟

روبی روز کے الزامات کے ردعمل کے طور پر کیٹی پیری کا مقابلہ ہوا۔

آرٹی فیشل انٹیلیجنس کو جواز بناکر ملازمین کو فارغ کرنا غیر قانونی قرار